The news is by your side.

Advertisement

سبسڈی کے ذریعے گھی اور خوردنی تیل کی قیمتوں میں 50 روپے تک کمی لانے کا اعلان

اسلام آباد: حکومت نے سبسڈی کے ذریعے گھی اور خوردنی تیل کی قیمتوں میں 40 سے 50 روپے کمی لانے کا اعلان کر دیا، حکومت اشیائے خورونوش پر براہ راست سبسڈی دے گی۔

تفصیلات کے مطابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت نے گھی اور تیل کی قیمتوں کا بوجھ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے، آٹے، تیل اور چینی پر سبسڈی دی جائے گی، گھی اور خوردنی تیل کی قیمتوں میں 40 سے 50 روپے کمی آئے گی۔

انھوں نے کہا فی کلو چینی 90 روپے کی ملے گی، کھانے کے تیل کی قیمت میں ٹیکس کم کر کے چالیس سے پچاس روپے کم کرائیں گے، پرائس کنٹرولنگ سے متعلق نچلی سطح پر نظام واپس لا رہے ہیں، ہم چاہتے ہیں مڈل مین کا کردار ختم کریں۔

شوکت ترین نے بتایا گندم کی قیمت 1950 روپے فی من کر دی ہے، چینی کی قیمت 90 روپے فی کلو فکس کر دی، درآمدی چینی کا اضافی بوجھ بھی حکومت اٹھائے گی، ملک کے 40 سے 42 فی صد لوگوں کو براہ راست فوڈ سبسڈی دیں گے۔

وزیر خزانہ نے کہا پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں خطے کے دیگر ممالک سے تیس سے چالیس فی صد کم ہیں، ہم نے پیٹرول کی قیمت صرف 13 سے 14 فی صد ہی بڑھائی ہے، پیٹرول پر اپوزیشن کی تنقید کا کوئی جواز ہی نہیں بنتا۔

انھوں نے کہا پیٹرول کی قیمت ڈیزل کی قیمتوں کے اثرات کم کرنے کے لیے بڑھائی گئی ہے، پیٹرولیم مصنوعات پر ہر ممکن ریلیف دیا گیا ہے۔

شوکت ترین نے کہا آئی ایم ایف کے ساتھ نظرثانی مذاکرات ہو رہے ہیں، آئی ایم ایف کی جانب سے ٹیکس بڑھانے، سبسڈی ختم کرنے اور گردشی قرضے روک کر کم کرنے کے لیے دباؤ آیا ہے، لیکن ہم ٹیکس دینے والے پر مزید ٹیکس نہیں لگائیں گے، گردشی قرضوں پر بھی ہم آئی ایم ایف سے اتفاق نہیں کرتے، جائزہ اجلاس میں اپنا مؤقف رکھیں گے اور دفاع بھی کریں گے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ڈالر مہنگا ہونے میں افغانستان کا فیکٹر بھی ہے، یہاں سے ڈالر افغانستان جا رہے ہیں، افغانستان والے خریداری کے لیے ڈالر لے رہے ہیں، پہلے ڈالر براہ راست افغانستان آ رہا تھا، اب یہاں سے جا رہا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں