The news is by your side.

Advertisement

وفاقی بجٹ 23-2022 : مہنگائی کا نیا طوفان آنے کا خدشہ

اسلام آباد :  گھی اور کوکنگ آئل مزید مہنگا کرنے کی تیاری کرلی گئی، بجٹ میں گھی اور کوکنگ آئل پر ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی بڑھانے کی تجویز سامنے آگئی۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی بجٹ 23-2022 کے بعد مہنگائی کا نیا طوفان آنے کا خدشہ ہے ، بجٹ میں گھی اورکوکنگ آئل آئل مزید مہنگا کرنے کی تیاری کرلی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گھی اور کوکنگ آئل پر ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی بڑھانے جبکہ خوردنی تیل پرکی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی بڑھانے کی سفارش کردی۔

گھی کارخانوں پر ونڈ فال لیوی لگانے ، پالتو جانوروں کی خوراک پر ٹیکس بڑھانے اور ڈبہ پیک کھانے پینے کی درآمدی اشیا پربھی ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی کی تجویز دی ہے جبکہ درآمدی گاڑیوں اور ٹائرز پر بھی ڈیوٹیز میں اضافہ تجویز سامنے آئی ہے۔

دستاویز میں بتایا گیا کہ نئے مالی سال کاترقیاتی بجٹ،دفاعی منصوبوں کیلئے 2ارب 32کروڑ روپے ،دفاع کے جاری منصوبوں کا پی ایس ڈی پی 1ارب 82کروڑ روپے اور وزارت دفاع کے نئے منصوبوں کیلئے 40کروڑ 70لاکھ روپے مختص کئے گئے۔

بجٹ میں زرعی سسٹم میں مصنوعی ذہانت کےمنصوبے کیلئے 30کروڑ روپے، ایف جی ڈگری کالج کوہاٹ کے منصوبے کیلئے 2کروڑ روپے اور نیشنل ایرواسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک منصوبےکیلئے 80 کروڑ مختص کیے ہیں۔

دستاویز کے مطابق نیشنل یونیورسٹی آف پاکستان کے قیام کیلئے20 کروڑ روپے ، نیشنل یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنس کیلئے 5کروڑ  روپےاور انسٹیٹیوٹ آف انکلیوسیو ایجوکیشن کیلئے 8.6 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

دستاویز میں کہا گیا کہ نئے مالی سال میں دفاعی پیداوار کے نئے ترقیاتی منصوبے شامل نہیں کئے گئے جبکہ دفاعی پیداوار ڈویژن کےجاری ترقیاتی منصوبوں کیلئے 2.20 ارب مختص کئے۔

اس کے علاوہ گوادر شپ یارڈ کے جاری منصوبے کیلئے 20کروڑ روپے مختص کئے، یہ فنڈز گوادر شپ یارڈ کے پراجیکٹ مینجمنٹ سیل کے قیام پر خرچ ہوں گے جبکہ کراچی شپ یارڈ کی اپ گرایڈیشن کیلئے 2ارب روپے مختص کئے گیے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں