ہفتہ, جولائی 18, 2026
اشتہار

سبسڈی کا حصول : گھوسٹ پیٹرول پمپس مالکان کا بڑا فراڈ کیسے پکڑا گیا؟

اشتہار

حیرت انگیز

آپ نے مختلف خبروں میں گھوسٹ ملازمین یا گھوسٹ اسکولوں کے بارے میں لازمی سنا ہوگا لیکن اب گھوسٹ  پیٹرول پمپس بھی سامنے آگئے، جن کا فراڈ پکڑا گیا۔

جی ہاں !! حکومتی پیٹرول سبسڈی کے اعلان کے بعد تقریباً 500 ‘ڈیڈ’ یا گھوسٹ پیٹرول پمپس اچانک فعال ہوگئے، جن کے ذریعے مبینہ طور پر اربوں روپے ہڑپ کرنے کا اسکینڈل سامنے آیا ہے۔

ان غیرفعال گھوسٹ پیٹرول پمپس نے پورا سال بند رہنے کے باوجود امریکا ایران جنگ کے ایام میں اچانک لاکھوں لیٹر تیل فروخت کیا اور اربوں روپے کمالیے۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق اوگرا کی جانب سے کی جانے والی ابتدائی تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ ملک بھر میں تقریباً 500 ایسے گھوسٹ پیٹرول پمپس جو پورا سال غیر فعال یا بند رہے اور سبسڈی کے اعلان کے بعد اچانک متحرک ہوگئے اور مارچ اور اپریل میں ہزاروں لیٹر پیٹرول کی فروخت ظاہر کرکے حکومتی رقم کا دعویٰ کردیا۔

حکومت نے خطے میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور پیٹرول پمپوں کو پرائس ڈیفرینشل سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم اوگرا کو موصول ہونے والے غیر معمولی کلیمز نے شکوک پیدا کر دیے۔

اوگرا حکام کے مطابق شکوک و شبہات تب پیدا ہوئے کہ جب کئی ایسے پیٹرول پمپس جن کی گزشتہ کئی ماہ تک فروخت نہ ہونے کے برابر تھی، مارچ اور اپریل میں اچانک ہزاروں لیٹر پیٹرول فروخت کرنے لگے، جس کے بعد ان کے مالکان کی جانب سے سبسڈی حاصل کرنے کے لیے بڑے بڑے کلیمز جمع کرا دیے گئے۔

تحقیقات کے دوران اوگرا نے متعلقہ پیٹرول پمپوں سے گزشتہ 18 ماہ کے بجلی کے بل طلب کیے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا وہ مسلسل فعال تھے یا صرف سبسڈی کے دوران کام کرتے رہے۔

متعدد پمپ مالکان نے بجلی کے بل فراہم کرنے کے بجائے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے پمپ مکمل طور پر سولر توانائی پر چلتے ہیں۔

ادارے کا کہنا ہے کہ تمام دعوؤں کی تفصیلی تحقیقات کی جارہی ہیں اور صرف تصدیق شدہ کلیمز ہی منظور کیے جائیں گے۔ حکام کے مطابق حکومتی خزانے اور عوام کے ٹیکس کے پیسے کے تحفظ کے لیے کسی بھی مشتبہ ادائیگی کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ بے ضابطگی ثابت ہونے کی صورت میں ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

اہم ترین

علیم ملک
علیم ملک
علیم ملک پاور ڈویژن، آبی وسائل، وزارت تجارت اور کاروبار سے متعلق دیگر امور کے لیے اے آر وائی نیوز کے نمائندے ہیں

مزید خبریں