The news is by your side.

گھوٹکی : پولیس افسران و اہلکار ڈاکوؤں کے چنگل میں کیسے پھنسے؟

گھوٹکی : اندرون سندھ کے علاقے گھوٹکی میں ڈاکوؤں کے ہاتھوں پولیس افسران سمیت 5اہلکاروں کی شہادت کے واقعے کی مزید تفصیلات سامنے آگئیں۔

اس حوالے سے پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس اہل کار مبینہ طور کچھ مغویوں کی بازیابی کیلئے لالو شر کے گھر پہنچے تھے۔ ذرائع کے مطابق ملزم ڈاکو لالو شر پولیس آپریشن کی پیشگی اطلاع پر اہل خانہ سمیت گھر سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا،

پولیس کی نفری لالو شر کے رہائش گاہ کے باہر 4موبائل اور2بکتربند گاڑیوں میں پہنچی جس کے بعد لالو شر کے گھر کو بیس کیمپ بنا کر پولیس نے آگے بڑھنے کا پلان بنایا تھا۔

ذرائع کے مطابق تقریباً رات دو بجے اچانک ڈیڑھ سو کے قریب مسلح ڈاکوؤں نے حکمت عملی کے تحت لالو شر کے گھر پر پولیس اہلکاروں کو چاروں طرف سے گھیرلیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس موقع پر ڈاکوؤں کی جانب سے 15 سے زائد راکٹ لانچر فائر کیے گئے، مذکورہ حملہ آور ڈاکوؤں کی سربراہی بدنام زمانہ ڈاکو راہب شر کررہا تھا۔

واضح رہے ہفتےاوراتوارکی درمیانی شب کو150 سے زائدڈاکوؤں نے پولیس حملہ کیا تھا، حملے میں ڈی ایس پی ،2ایس ایچ او سمیت 5پولیس اہلکار شہید ہوئے تھے۔

مزید پڑھیں : گھوٹکی، 5 پولیس اہلکاروں کی شہادت کا مقدمہ درج

پولیس نے بتایا تھا کہ رونتی کے علاقے میں شہید ڈی ایس پی عبدالمالک بھٹو ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن کی قیادت کر رہے تھے کہ راکٹ لانچروں سے حملہ کرنے کے بعد ڈاکوؤں نے کیمپ پر قبضہ کرلیا۔

ذرائع کے مطابق ڈاکوؤں نے جس وقت پولیس کیمپ پر حملہ کیا اس وقت وہاں 50 سے زائد پولیس اہلکار، افسران ودیگر افراد موجود تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں