راولپنڈی: جی ایچ کیو حملہ کیس میں انسپکٹر عصمت کمال نے اپنے بیان میں انکشاف کیا کہ 9 مئی اور 7 مئی کی سازش چکری میں پارٹی کی ایک میٹنگ کے دوران تیار کی گئی تھی، جس میں بانی پی ٹی ائی اور پارٹی کے دیگر عہدے داران بھی موجود تھے۔
تفصیلات کے مطابق راولپنڈی میں انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت ہوئی، مقدمے کی سماعت انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی
کیس آخری مراحل میں داخل ہو گیا، پراسیکیوشن نے عدالت کو آگاہ کیا کہ طلب کردہ مزید تین گواہان کے علاوہ پراسیکیوشن کلوز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سماعت کے دوران استغاثہ کی جانب سے جی ایچ کیو حملہ کیس کا مالِ مقدمہ بھی عدالت میں پیش کیا گیا جس میں ملزمان سے برآمد جھنڈے، آگ جلانے والا لیٹر اور موبائل فون شامل تھے، جی ایچ کیو کے باہر سپاہی کا مجسمہ توڑے جانے کے ثبوت بھی پیش کیے گئے۔
پراسیکیوشن کے تین گواہان انسپکٹر عصمت کمال، ڈی ایس پی اکبر عباس اور انسپکٹر تہذیب الحسن کے بیانات قلم بند کیے گئے۔ اس سے قبل استغاثہ کے 44 گواہان کے بیان ریکارڈ ہو چکے ہیں۔
عدالت نے آئندہ سماعت پر استغاثہ کے مزید گواہان مرزا جاوید، ناظم حسین شاہ اور یعقوب شاہ کو شہادت کے لیے طلب کر لیا، جبکہ فیصل ملک کی آٹھ گواہان کو دوبارہ بلانے کی درخواست بھی آئندہ سماعت تک ملتوی کر دی گئی۔
انسپکٹر عصمت کمال نے اپنے بیان میں انکشاف کیا کہ 9 مئی اور 7 مئی کی سازش چکری میں پارٹی کی ایک میٹنگ کے دوران تیار کی گئی تھی، میٹنگ میں بانی پی ٹی ائی اور پارٹی کے دیگر عہدے داران بھی موجود تھے۔
انسدادِ دہشت گردی عدالت نے سماعت 30 ستمبر تک ملتوی کر دی۔


