راولپنڈی : انسداد دہشت گردی عدالت نے جی ایچ کیو حملہ کیس میں بانی پی ٹی آئی کی ویڈیو لنک کے خلاف دائر تیسری درخواست بھی خارج کردی۔
تفصیلات کے مطابق راولپنڈی میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت ہوئی۔
سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی کے وکیل فیصل ملک نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل گزشتہ دو سماعتوں میں نہ تو گواہان کو دیکھ سکے اور نہ ہی اپنے وکیل کو سن سکے۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ بانی پی ٹی آئی سے جیل میں ملاقات کے دوران انہوں نے شکوہ کیا کہ انہیں عدالتی کارروائی سمجھ نہیں آ رہی۔
فیصل ملک نے عدالت سے استدعا کی کہ ٹرائل کی منتقلی سے متعلق نوٹیفکیشن پر ہائی کورٹ کے فیصلے تک کارروائی روکی جائے۔
جس پر پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 2023 میں قانونِ شہادت میں ترمیم کے بعد ویڈیو لنک کے ذریعے کارروائی کی اجازت دی جا چکی ہے، جبکہ لاہور ہائی کورٹ اور دیگر عدالتیں بھی اس کی اجازت دے چکی ہیں اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 21 اور دیگر قوانین ملزم کی ویڈیو لنک پر موجودگی کی اجازت دیتے ہیں۔
پراسیکیوشن ٹیم نے مؤقف اپنایا کہ وکلا صفائی عدالتی کارروائی کا بار بار بائیکاٹ کرکے ٹرائل کو متاثر کر رہے ہیں، جو عدلیہ کو "ہائی جیک” کرنے کے مترادف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب تک حکومت کے جاری کردہ نوٹیفکیشن یا ہائی کورٹ کے احکامات معطل نہیں ہوتے، ٹرائل نہیں روکا جا سکتا۔
عدالت نے استغاثہ اور صفائی کے دلائل سننے کے بعد درخواست مسترد کر دی۔
جج انسداد دہشت گردی عدالت امجد علی کے مطابق حکومت کی جانب سے ویڈیو لنک ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری ہو چکا ہے۔
یاد رہے کیس میں اب تک 41 گواہوں کےبیانات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں اور بانی پی ٹی آئی کے وکلاء دوبارعدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کرچکے ہیں، اڈیالہ جیل میں سماعت منسوخ ہونے کے بعد اے ٹی سی میں یہ تیسری سماعت تھی۔


