اردو شاعری میں ن م راشد نے نظم کی صنف کو نئی فکری و فنی جہتوں سے آشنا کیا اور ان کی شاعری کا محور و مرکز انسان اور زندگی کی گوں ناگوں سچائیاں رہیں۔ وہ اردو میں جدید نظم کے ایسے شاعر ہیں جنھوں نے روایتی اسلوبِ شاعری سے بغاوت کی اور پابند نظموں سے زیادہ آزاد اور نظمِ معریٰ کو وسیلۂ اظہار بنایا۔ یہی نہیں بلکہ ن م راشد نے نظم میں ہیئت کے مختلف تجربے بھی کیے۔
ن م راشد کے حلقۂ احباب میں اس وقت کے مشہور اور بلند قامت افسانہ نگار اور ادیب غلام عباس بھی شامل تھے۔ ’آنندی‘ ان کا مشہور ترین افسانہ ہے۔ غلام عباس نے ن م راشد سے اپنی شناسائی اور دوستی کو اپنی ایک تحریر میں بیان کیا تھا۔ اس تحریر سے یہ اقتباسات پیشِ خدمت ہیں۔ ملاحظہ کیجیے:
۱۹۲۸ء کے اواخر میں جب لاہور کے مشہور نشری ادارے ‘‘دار الاشاعت پنجاب’’ سے منسلک ہوا تو اس وقت میری عمر اٹھارہ انیس برس سے زیادہ نہ ہوگی۔
اس ادارے کے ایک اہم رکن سید امتیاز علی تاج تھے جن کا شمار ملک کے ممتاز ادبا میں ہوتا تھا۔ ان کی شخصیت بڑی جاذبِ نظر تھی، انہوں نے ڈرامہ ‘‘انارکلی’’ لکھا تھا جس کی شہرت اس کی اشاعت سے قبل ہی دور دور پھیل گئی تھی اور لوگ اس ڈرامے کے اقتباسات ان کی زبان سے سننے کے بڑے مشتاق رہا کرتے تھے۔
تاج صاحب کے احباب کا حلقہ خاصا وسیع تھا مگر ان میں سب سے زیادہ قابلِ ذکر سیّد احمد شاہ بخاری پطرس تھے جو ان کے کالج کے زمانے کے رفیق اور دوست تھے۔ ایک زمانے میں ان کی جوڑی کو خاصی شہرت حاصل رہی کیونکہ وہ لاہور کی علمی و ادبی مجالس اور میلوں ٹھیلوں میں ہمیشہ ایک ساتھ دیکھے جاتے تھے۔
ایک دن بخاری صاحب تاج صاحب سے ملنے آئے تو وہ بڑے جوش میں تھے۔ کہنے لگے، ‘‘امتیاز، آج میں نے ایک اردو رسالے میں ایک نظم پڑھی ہے جسے بلاشبہ اس صدی کی نظم کہا جاسکتا ہے، اس کا عنوان ہے ‘اتفاقات’ اس کا خالق ن۔ م۔ راشد ہے جو ہمارے گورنمنٹ کالج ہی کا فارغ التحصیل ہے۔’’
پھر بخاری صاحب نے بتایا کہ وہ راشد سے ملنے اور اس نظم کی داد دینے اس کے مکان پر گئے تھے۔ اس وقت راشد بڑی تنگی ترشی سے گزر کرتے تھے، ان کا رہن سہن کچھ زیادہ اچھا نہ تھا۔ کرسی تلاش کرنے لگے جو موجود نہ تھی۔ بخاری صاحب نے کہا، رہنے دو۔ فرش پر جو کتابیں پڑی ہیں، میں ان کو جمع کرکے ان پر بیٹھ جاؤں گا۔ پھر وہ دیر تک راشد سے اس کی نظم پر گفتگو کرتے رہے۔ یہ ۱۹۳۵ء کا واقعہ ہے۔
میں نے راشد کو کئی بار مشاعروں میں شعر پڑھتے سنا تھا لیکن ان سے شناسائی اس وقت ہوئی جب مولانا چراغ حسن حسرت بھی ‘’دارالاشاعت پنجاب’’ کے ادارے میں شامل ہوگئے۔ حسرت صاحب پیشے کے لحاظ سے تو صحافی مگر ادب کا بڑا ارفع مذاق رکھتے تھے۔ ان کی علمی استعداد کا کچھ ٹھکانہ ہی نہ تھا۔ وہ نظم اور نثر دونوں پر استادانہ مہارت رکھتے تھے، ان کے گرد اس وقت کے ابھرتے ہوئے ادبا و شعرا اور ادب کے طالبِ علموں کا خاصا مجمع لگا رہتا تھا۔ ان میں اکثر راشد اور میرا جی بھی ہوتے تھے۔ حسرت صاحب کو جدید شاعری قطعاً ناپسند تھی۔ وہ کہتے تھے کہ آزاد شاعری جب قافیہ اور ردیف سے آزاد ہے تو اس میں تعقید لفظی اور اسی قسم کے دوسرے عیوب نہیں ہونے چاہییں۔ اگر نئی نظم میں ‘‘میں نہیں سکتا بتا’’ جیسا ٹکڑا ہو تو وہ سخت ناگوار گزرتا ہے۔ نثر ہو تو صاف اور رواں۔
حسرت صاحب کی وسیع القلبی دیکھیے کہ جب میرا جی نے اپنی بے قافیہ نظموں کی کاپی حسرت صاحب کو بغرضِ اصلاح پیش کی تو وہ انکار نہ کرسکے۔ اور کئی دن تک اس پر بڑی محنت صرف کرتے رہے۔ اس کے کئی سال بعد دلّی میں جب راشد نے اپنی نظموں کے پہلے مجموعے ‘‘ماوریٰ’’ کا مسودہ حسرت صاحب کو اصلاح کے لیے دیا انہوں نے اس پر بھی غائر نظر ڈالی۔ اور اس کے زبان کے بعض اسقام کو دور کیا۔ راشد نے ‘‘ماوریٰ’’ کے دیباچے میں اس کا اعتراف بھی کیا ہے۔
راشد نے ایامِ جوانی ہی میں خود کو خاکسار تحریک سے وابستہ کرلیا تھا۔ وہ کئی سال تک اس کے سرگرم رکن بنے رہے۔ ایک دفعہ گورنمنٹ کالج کی طرف سے انہیں دعوت دی گئی کہ وہ خاکسار تحریک کے بارے میں کالج کی ایک تقریب میں مقالہ پڑھیں۔ اور کالج کے طلباء کو اس تحریک کے اغراض و مقاصد سے آگاہ کریں۔ راشد نے کہا میں اس تقریب میں شامل ہونے کو تیار ہوں بشرطیکہ مجھے خاکساروں کی وردی پہن کر آنے اور ہاتھ میں بیلچہ اٹھانے کی اجازت ہو۔
کالج والوں کو اس پر کیا اعتراض ہو سکتا تھا۔ چنانچہ راشد اپنی شرائط کے مطابق خاکساروں کی وردی پہن کر اور کندھے پر بیلچہ اٹھاکر کالج گئے اور خاکسار تحریک پر ایک نہایت دل چسپ اور پُر از معلومات مقالہ پڑھا۔
۱۹۳۷ء میں مجھے ‘‘پھول’’ اخبار کی ایڈیٹری چھوڑ کر دلّی جانا پڑا۔ جہاں آل انڈیا ریڈیو کے رسالے کی ایڈیٹری مجھے سونپ دی گئی۔ اس کے کچھ دن بعد پروفیسر احمد شاہ بخاری نے، جو اب آل انڈیا ریڈیو کے ڈپٹی کنٹرولر تھے، مجھ سے کہا کہ راشد ریڈیو میں ملازم ہوگیا ہے۔ فی الحال لاہور میں ہے لیکن عنقریب اسے دلّی بلوا لیا جائے گا اور خبروں کے ترجمے کے کام پر لگا دیا جائے گا۔ تم ذرا اس کی دل جوئی کرتے رہنا۔
چنانچہ چند روز بعد راشد دلّی آگئے۔ اور شام کی خبروں کے بلیٹن کے مترجم بن گئے۔ میں نے خبروں کے بعد ان کے دفتر میں جاکر ان سے ملاقات کی۔ میرے استفسار پر انہوں نے بتایا کہ تنہا آیا ہوں اور ایک ہوٹل میں ٹھہرا ہوں۔
اتفاق سے ان دنو ں میں گھر میں اکیلا ہی رہتا تھا۔ کیونکہ بیوی طویل علالت کی وجہ سے ہسپتال میں تھی اور والدہ نے بھی اس کی تیمار داری کے لیے ہسپتال ہی میں سکونت اختیار کرلی تھی۔ چنانچہ میں نے کہا کہ میرے ہاں کیوں نہیں آ رہتے۔ راشد مان گئے۔ اور تقریباً ایک ماہ میرے پاس ہی رہے اور یوں ہماری شناسائی نے رفتہ رفتہ ایک گہری دوستی کی شکل اختیار کر لی۔
ہم دن رات ساتھ ساتھ رہتے تھے۔ دنیا جہان کی باتیں کرتے۔ موضوعِ گفتگو زیادہ تر ادب ہوتا۔ میری طرح انہیں بھی روسی لٹریچر سے بڑی دل بستگی تھی۔ میں نے دوستوفسکی، ٹالسٹائی، گورکی اور چیخوف کے افسانے ترجمہ کیے تھے۔ انہوں نے کے ناول “Yama The Pit” کو اردو کا جامہ پہنایا تھا۔ یہ ایک بڑا طویل ناول تھا جس کا ترجمہ انہوں نے بڑی عرق ریزی سے کیا تھا۔ مگر ظالم ناشر نے نہ تو ترجمے کا کوئی معاوضہ دیا تھا اور نہ کتاب پر بہ حیثیت مترجم ان کا نام ہی درج کیا تھا، اس پر اور ستم یہ کہ رسالوں اور اخباروں میں اس کتاب کے جو اشتہار چھپتے تھے، ان میں ان کا نام بڑے جلی حروف میں چھپوایا جاتا تھا۔
کبھی کبھی موضوع سخن ان کی شاعری اور میری افسانہ نویسی بھی ہوتا تھا۔ ان کی جو نظمیں میری سمجھ میں نہ آتیں وہ ان کا ایک ایک نکتہ مجھے اس طرح سمجھاتے جس طرح کوئی بچّے کو سمجھاتا ہے اور اس طرح میں ان کی نظموں کے مفہوم اور ان کے نقطۂ نظر سے آگاہ ہوکر ان سے پورے طور پر لطف اندوز ہونے لگا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


