تقسیمِ ہند سے قبل جن تخلیق کاروں نے بطور افسانہ نگار، اور مترجم بھی پہچان بنانا شروع کی، اور خاص طور پر افسانہ نگاری میں علامتی اور تجریدی انداز اپنایا، ان میں سے ایک غلام عباس ہیں۔
غلام عباس کے افسانے انسانی فطرت کو بیان کرتے ہیں اور معاشرتی و نظام کے جبر کو بھی کرداروں کے ذریعے سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ’’آنندی‘‘ اور ’’اوور کوٹ‘‘ اس کی مثال ہیں۔
غلام عباس 17 نومبر 1909ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے۔ ایامِ طفلی میں باپ کا سایہ غلام عباس کے سر سے اٹھ گیا اور چار برس کی عمر میں والدہ، نانی اور نانی کی بہن کے ساتھ وہ امرتسر سے لاہور آ گئے۔ ابتدائی تعلیم لاہور ہی میں حاصل کی مگر یہ سلسلہ نویں جماعت تک ہی جاری رہ سکا۔ والدہ کو پڑھنے کا شوق تھا اور یہی غلام عباس کو بھی منتقل ہوا۔ بچپن میں کلاسیکی ادب پڑھنے کی چاٹ لگ گئی۔ پندرہ سولہ برس کی عمر تک آتے آتے بہت سا ادب پڑھ لیا۔ مطالعے کے ساتھ ساتھ لکھنے کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔ روزگار ضروری تھا سو پڑھائی چھوڑ کر ریلوے کے مال گودام میں 30 روپے تنخواہ پر ’مارکر‘ کی نوکری کرلی۔ وہ مال بھیجنے والی بوریوں پر نمبر درج کرتے دن گزار دیتے۔ پھر اس کام سے تنگ آگئے۔ مطالعہ کا شوق ایسا تھا کہ مختلف موضوعات پر کتابیں خرید کر فارغ وقت میں انہی میں ڈوبے رہتے۔ جلد ہی احساس ہوگیا کہ وہ خود بھی لکھ سکتے ہیں۔ اور پھر ابتدائی تحریروں سے نکل کر انھوں نے بطور تخلیق کار افسانے سے اپنے سفر کا آغاز کیا۔ ابھی وہ 20 برس کے تھے کہ ان کے تراجم اور مضامین شایع ہونے لگے اور ان کی آمدنی کا ذریعہ بن گیا۔ تب ریلوے کی نوکری کو خیرباد کہا اور ترجمہ کا کام پورے اہتمام اور انہماک سے کرنے لگے۔ ان کے مضامین اور تراجم جن رسالوں میں جگہ پانے لگے تھے، ان میں حکیم احمد شجاع کا ’ہزار داستان‘ نمایاں تھا۔ اس رسالہ میں 1925 میں ٹالسٹائی کی کہانی ’دی لانگ ایگزائل‘ کے ترجمے سے ان کی ادبی زندگی کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ بچوں کے اخبار ’پھول‘ سے وابستہ ہوئے تو یہ ایک نیا موڑ ثابت ہوا اور 1928سے 1937 تک امتیاز علی تاج کے نائب کے طور پر ’پھول‘ سے وابستہ رہے۔ یہاں غلام عباس نے طبع زاد کہانیاں لکھیں اور تراجم بھی کیے جو بچوں کے علاوہ بہت سے عام قارئین اور اس وقت کے بڑے ادیبوں کی نظر سے بھی گزرتے تھے۔ اس رسالہ کی بہت شہرت تھی۔ اس لیے غلام عباس کا نام بھی دور دور تک پہنچا۔ دارُالاشاعت پنجاب کے تحت جب واشنگٹن ارونگ کی کتاب Tales of the Alhambra کا ترجمہ ’الحمرا کے افسانے‘ کے عنوان سے کیا تو غلام عباس کو بہت سراہا گیا۔
بعد میں غلام عباس دلی چلے گئے تقسیم کے بعد واپس لاہور آئے جہاں میسن روڈ پر ڈاکٹر ایم ڈی تاثیر کے گھر کی اوپر کی منزل پر رہے۔ دلی سے دس سال بعد ان کی لاہور واپسی ہوئی تھی۔ یہاں کی گلیوں میں انھوں نے اپنے لڑکپن اور جوانی کے دن گزارے تھے، ان کی بہت سے یادیں اس شہر سے وابستہ تھیں مگر چند ماہ یہاں رہنے کے بعد کراچی منتقل ہو گئے اور وہاں ریڈیو پاکستان میں ملازمت مل گئی۔ بعد میں وزارت اطلاعات و نشریات سے وابستہ ہو گئے اور پھر بی بی سی سے منسلک ہوئے۔ 1952ء میں لندن سے واپسی پر دوبارہ ریڈیو پاکستان میں شمولیت اختیار کر لی اور 1967ء تک وہاں کام کرتے رہے۔ 1960ء میں ان کا دوسرا افسانوی مجموعہ ’’جاڑے کی چاندنی‘‘ شائع ہوا جس پر انہیں آدم جی ایوارڈ دیا گیا۔ 1967ء میں حکومت پاکستان نے انہیں ’’ستارہ امتیاز‘‘ سے نوازا۔ 1969ء میں ان کا تیسرا افسانوی مجموعہ ’’کن رس‘‘ شائع ہوا۔ ان کا افسانہ ’’دھنک‘‘ بھی اسی سال شائع ہوا۔ 1986ء میں اپنے افسانے ’’گوندنی والا تکیہ‘‘ کو کتابی شکل میں شائع کیا۔ غلام عباس کی کتابوں میں ’’آنندی‘‘، ’’جاڑے کی چاندنی‘‘، ’’کن رس‘‘، ’’الحمرا‘‘، ’’چاند تارا‘‘، ’’چار چھوٹے ناٹک‘‘، ’’دھنک‘‘، ’’گوندنی والا تکیہ‘‘، ’’جلا وطن‘‘، ’’جزیرہ سخن داران‘‘ اور ’’کلیات غلام عباس‘‘ شامل ہیں۔
2 نومبر 1982ء کو اردو کے اس نام ور افسانہ نگار نے کراچی میں وفات پائی۔


