سکھر (13 مئی 2026): اے آر وائی نیوز کی خبر اور وائرل ویڈیو کا نوٹس لیتے ہوئے سیپکو کے سی ای او نے ایس ای سیپکو غلام علی تنیو کے خلاف فوری کارروائی کرتے ہوئے انکوائری کا حکم دے دیا۔
سی ای او سیپکو کی جانب سے غلام علی تنیو کے خلاف 4 رکنی تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے، جب کہ اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
تحقیقاتی کمیٹی میں مشتاق عباسی، امداد میرانی، دیپک کمار اور ڈاکٹر عاشق عباسی شامل ہیں، جب کہ واپڈا اسپتال کے ایم ایس غلام علی تنیو کے میڈیکل ٹیسٹ کریں گے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق انکوائری مکمل ہونے تک سپرنٹنڈنٹ انجینئر غلام علی تنیو سیپکو ہیڈ کوارٹر میں کام کریں گے۔ کمیٹی کو 7 روز کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
View this post on Instagram
ذرائع کے مطابق انکوائری کمیٹی غلام علی تنیو کے رویے، طرزِ عمل، زبان اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کے حقائق کا جائزہ لے گی۔ اس کے علاوہ طبی معائنے کے ذریعے یہ بھی تحقیقات کی جائیں گی کہ مذکورہ افسر نشہ آور یا ممنوعہ اشیا کا استعمال کرتا ہے یا نہیں۔
سیپکو سپرنٹنڈنٹ غلام علی کا آئس استعمال کرنے اور نشے کا عادی ہونے کا اعتراف
واضح رہے کہ غلام علی تنیو کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی، جس میں وہ یہ اعتراف کر رہے ہیں کہ وہ آئس سمیت دیگر منشیات کے عادی ہیں اور آئس پی کر کام کرتے ہیں۔ ویڈیو میں غلام علی تنیو خود کو نشے کا عادی قرار دیتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں، جب کہ وہ اسٹاف کو صارفین پر فائر کرنے اور مارنے کی ہدایات دیتے بھی سنائی دیتے ہیں۔
خبر وائرل ہونے کے بعد سی ای او سیپکو نے فوری نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم جاری کیا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


