بیٹوں کی حوالگی کیس، بچوں اور ماں کے درمیان عدالت میں ملاقات، جذباتی مناظر Son
The news is by your side.

Advertisement

بیٹوں کی حوالگی کیس، بچوں اور ماں کی عدالت میں ملاقات، جذباتی مناظر

لاہور: ڈی آئی جی پیٹرولنگ غلام محمد ڈوگر کے بیٹوں کی حوالگی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، بچوں اور ماں کی ملاقات میں رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں کیس کی سماعت ہوئی، گزشتہ سماعت پر عدالتی حکم کے مطابق ڈی آئی جی نے دونوں بچوں کو عدالت میں پیش کیا۔

اس موقع پر ماں اور بچے ایک دوسرے کو دیکھ کر جذباتی ہوگئے اور ماں بچوں سے لپٹ کر روتی رہی جس کے بعد کمرہ عدالت میں جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے، صحافیوں نے اس منظر کو عکس بند کرنے کی کوشش کی تو ڈی آئی جی اسکواڈ کے اہلکاروں نے میڈیا کے نمائندوں سے بدتمیزی کی اور رپورٹرز کے موبائل چھین کر فوٹیج ڈیلیٹ کردیں جبکہ ماں نے بچوں سے ملنے کی کوشش کی تو اہلکاروں نے دھکے بھی دیے۔

کینیڈا کی خاتون شہری مرجان نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ غلام محمد ڈوگر نے شادی کے بعد طلاق دی اور دونوں بیٹوں کو زبردستی چھین کر اپنے ہمراہ لے گیا۔ ماں نے عدالت سے استدعا کی کہ غلام قاسم اور غلام جعفر کو اب اُن کا باپ ملنے سے زبردستی روکتا ہےلہذا فوری طور پر بچے واپس دلائے جائیں۔

قبل ازیں عدالتی احکامات کے باوجود پولیس نے بچوں کو سماعت کے وقت پیش نہیں کیا اور ہر بار کوئی نہ کوئی بہانہ بنایا جس پر جج نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر ہرصورت بچے پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

سخت عدالتی حکم ملنے کے بعد ڈی آئی جی مجبور ہوئے اور انہوں نے بچوں کو پیش کردیا جس کے بعد کمرہ عدالت میں جذباتی مناظر میں دیکھنے میں آئے۔ عدالت نے سماعت 15 اگست تک ملتوی کرتے ہوئے بچوں کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم جاری کردیا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں