اتوار, جولائی 19, 2026
اشتہار

ماسٹر غلام حیدر: فلمی دنیا کا جدّت طراز، گوہر شناس موسیقار

اشتہار

حیرت انگیز

برصغیر میں ماسٹر غلام حیدر کو اس وقت موسیقارِ اعظم کے طور پر شناخت کیا جانے لگا، جب انھوں نے فلمی دنیا کو کلاسیکی موسیقی کی بھاری بندشوں سے نکال کر ہلکے پھلکے انداز میں لوک موسیقی سے ملا دیا۔ ان کا سب سے بڑا کام یہی ہے کہ انھوں نے اس خطّے کی فلمی موسیقی کی ہیئت کو واضح شکل دی جو بے انتہا مقبول ہوئی۔ ماسٹر غلام حیدر کو ایک جدّت پسند، رحجان ساز اور گوہر شناس موسیقار کے طور پر یاد کیا جاتا رہے گا۔

ماسڑ غلام حیدر نے لاہور کے بعد کلکتہ اور ممبئی کی بڑی فلم انڈسٹریز میں پس پردہ موسیقی کے میدان میں کارہائے نمایاں سر انجام دیے۔ انھوں نے فلمی موسیقی کو ایک نئے انداز سے پیش کیا جس میں پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں لازوال گیت تخلیق ہوئے۔ ماسٹر غلام حیدر ہی وہ موسیقار تھے جنھوں نے برصغیر کو نور جہاں اور لتا جیسی سحر انگیز آوازیں دیں۔ ماسٹر غلام حیدر ہی نے شمشاد بیگم کو بھی بطور گلوکارہ متحدہ ہندوستان کی فلمی دنیا میں متعارف کروایا تھا۔

موسیقار ماسٹر غلام حیدر 1906ء میں حیدرآباد سندھ میں پیدا ہوئے۔ تاہم، ماسٹر غلام حیدر کی تاریخ پیدائش اور جائے پیدائش میں اختلاف ہے۔ وہ بچپن ہی میں ہارمونیم بجانے میں دل چسپی لینے لگے تھے۔ وہ لاہور منتقل ہوئے اور 1932ء میں ایک ریکارڈنگ کمپنی سے وابستہ ہوگئے۔ انھیں اپنے وقت کے باکمال اور ماہر موسیقاروں استاد جھنڈے خان، پنڈت امرناتھ اور جی اے چشتی سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا اور پھر غلام حیدر نے موسیقی کی دنیا میں اپنی ایک الگ راہ نکالی۔ 1933ء میں مشہور فلم ساز اے آر کاردار نے اپنی فلم ’’سورگ کی سیڑھی‘‘ کے لیے ماسٹر غلام حیدر کو بطور موسیقار منتخب کیا اور بعد میں انھوں نے فلم گل بکاؤلی کی موسیقی ترتیب دی جس نے ان کا فلمی سفر مزید آگے بڑھایا۔ لاہور میں بطور موسیقار کام کرنے کے بعد 1944ء میں ماسٹر غلام حیدر ممبئی منتقل ہوگئے جو اس وقت ایک فلمی مرکز بن چکا تھا۔ وہاں کئی فلموں کے لیے منفرد کام کرنے کے بعد 1948ء میں پاکستان ہجرت کی اور لاہور چلے گئے۔ وہاں انھوں نے کئی آوازوں کو موقع دیا جن میں شمشاد بیگم، زینت بیگم، میڈم نور جہاں اور لتا منگیشکر نے بے مثال شہرت پائی۔ ان کی مشہور فلموں میں سورگ کی سیڑھی، مجنوں، گل بکاؤلی، یملا جٹ، خزانچی، چوہدری، خاندان، ہمایوں، شمع، مہندی، منجدھار، مجبور، شہید، چل چل رے نوجوان، کنیز، شاہدہ، بے قرار، اکیلی، بھیگی پلکیں اور گلنار شامل ہیں۔ گلنار وہ فلم تھی جس کی نمائش کے سال ہی یعنی 1953 میں 9 نومبر کو جب ماسٹر صاحب 45 سال کے تھے، ان کا انتقال ہوگیا۔ پنجاب کی لوک دھنوں کو اپنی موسیقی میں شامل کرنا ان کا ایک منفرد تجربہ تھا۔ ماسٹر غلام حیدر لاہور کے ایک قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں