ہفتہ, اپریل 11, 2026
اشتہار

غلام جیلانی برق: تذکرہ ایک نابغۂ روزگار کا

اشتہار

حیرت انگیز

غلام جیلانی برق ایک ذہین، نکتہ سنج اور تنقیدی بصیرت کے حامل ایسے دانش ور تھے جنھیں پاکستان ہی نہیں عالمی سطح پر بھی ایک بڑے اسکالر کی حیثیت سے شہرت ملی، مگر وہ اپنی ایک تصنیف کے سبب پاکستان میں متنازع بھی رہے ہیں۔ اس کے باوجود برق کی ذہانت اور علمی و ادبی حیثیت سے کسی کو انکار نہیں۔ آج غلام جیلانی برق کا یومِ‌ وفات ہے۔

غلام جیلانی برق کو ایک ماہرِ تعلیم، شاعر، مصنّف اور مترجم کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جو 1985ء میں آج ہی کے روز انتقال کرگئے تھے۔ برق کو ان کی علمی استعداد، قابلیت اور تحقیقی کام کی وجہ سے جہاں بہت سراہا جاتا ہے، وہیں مذہبی موضوعات پر ان کے بعض افکار و خیالات پر کڑی تنقید بھی ہوئی اور مذہبی حلقوں میں ان کی شخصیت متنازع ہوگئی۔ تاہم کہا جاتا ہے کہ برق صاحب نے اپنے مؤقف پر نظر ثانی کی اور بعد میں رجوع کرلیا تھا۔ اس تنازع کے باوجود غلام جیلانی برق کو ہر مکتبِ‌ فکر میں ضرور اہمیت دی جاتی رہی ہے۔

وہ 26 اکتوبر 1901ء کو پنڈی گھیپ، ضلع کیمبل پور میں پیدا ہوئے تھے۔ غلام جیلانی برق نے عربی، فارسی اور اردو میں اسنادِ فضیلت حاصل کیں۔ بعد میں عربی اور فارسی میں ایم اے کیا۔ 1940ء میں غلام جیلانی برق نے امام ابنِ تیمیہ کی زندگی اور کارناموں پر تحقیقی مقالہ لکھا اور پی ایچ ڈی کی ڈگری لی۔ بعدازاں تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوئے اور اپنے فرائض کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ مختلف موضوعات پر تصنیف میں مشغول رہے۔ انھوں نے لگ بھگ 40 کتابیں اور کئی مضامین سپردِ قلم کیے۔ ان کی قابلِ ذکر تصانیف میں دو اسلام، فلسفیانِ اسلام، مؤرخینِ اسلام، حکمائے عالم، فرماں روایانِ اسلام، دانشِ رومی و سعدی، ہم اور ہمارے اسلاف شامل ہیں۔

اٹک میں انتقال کرنے والے ڈاکٹر غلام جیلانی برق کو قبرستان عید گاہ میں سپردِ‌ خاک کیا گیا۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں