غلام ربانی آگرو نے اردو اور سندھی زبان میں اپنی ادبی تخلیقات، تحقیقی کام کے ساتھ متعدد ادبی اداروں کے منتظم کی حیثیت سے پہچانے گئے اور ان اداروں کے تحت ان کے زیرنگرانی تصنیف و تالیف کا خوب کام ہوا جب کہ آگرہ صاحب نے ادبی اداروں کے انتظامی امور بھی بخوبی نبھائے۔ وہ اپنے وسیع مطالعہ اور خاص طور پر سندھ کی تاریخ و ثقافت پر اپنی تحریروں کی وجہ سے پہچانے گئے۔ آج غلام ربانی آگرہ کا یومِ وفات ہے۔
غلام ربانی آگرہ سندھ یونیورسٹی کے علاوہ سیکریٹری سندھی ادبی بورڈ، ڈائریکٹر جنرل اکادمی ادبیات پاکستان بھی رہے اور ممبر فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی حیثیت سے بھی کئی برس تک کام کیا۔ غلام ربانی آگرو کے ادبی سفر کا آغاز پاکستان بننے کے بعد 1955ء میں افسانہ نگاری سے ہوا۔ سندھی زبان میں ان کی کہانیاں اور افسانے پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ بیسویں صدی میں سندھ کی تہذیب اور روایات کے ساتھ یہاں کا ماحول کیسا تھا۔ انھوں نے سندھ کے دیہات سے تعلق رکھنے والے عام لوگوں کو اپنے افسانوں اور کہانیوں میں پیش کیا۔ ان کی یہ کہانیاں انگریزی، جرمن، چینی، ہندی اور روسی زبانوں میں ترجمہ ہوچکی ہیں اور ان افسانوں کا مجموعہ ’’آبِ حیات‘‘ کے عنوان سے 1960ء میں شائع ہوا۔
بحیثیت ایڈیٹر ’’سہ ماہی مہران‘‘ اور بچوں کے ماہنامے ’’گل پُھل‘‘ کے لیے کام کرنے کے ساتھ وہ کئی کتابوں کے مصنف بھی رہے جن میں ’’جھڑاگل گلاب جا‘‘، ’’سندھ جابر بحر پہاڑ‘‘، ماڑھوں شہر بھنبھور جا‘‘، ’’سندھی ادب تی ترقی پسند تحریک جو اثر‘‘، ’’خط غبار‘‘ (خطوط کا مجموعہ)، ’’بھارت میں اردو: ایک جائزہ‘‘، ’’سندھ میں پکھین جو شکار‘‘ شامل ہیں۔
5 نومبر 1933ء کو غلام ربانی آگرو نے سندھ کے ضلع نوشہرو فیروز کے گاؤں محمد خان آگرو میں آنکھ کھولی۔ ابتدائی تعلیم حیدرآباد، سندھ میں مکمل کی اور پھر کراچی یونیورسٹی سے گریجویشن کیا۔ ان کا انتقال 18 جنوری 2010ء کو حیدرآباد میں ہوا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


