نیویارک (20 جولائی 2026): برطانوی اخبار نے کہا ہے کہ بالوگن ریڈ کارڈ تنازع پر جیانی انفانٹینو کے خلاف آئی او سی کی پابندی کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔
دی گارڈین کے مطابق، فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو پر الزام ہے کہ انھوں نے امریکی کھلاڑی فولارین بالوگن کے ریڈ کارڈ کے معاملے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کیا، جس سے سیاسی غیر جانب داری کے اصولوں کی خلاف ورزی ہوئی، تاہم اس کے باوجود انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی (آئی او سی) کی جانب سے اُن کے خلاف کسی کارروائی کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم فیئر اسکوائر نے اس ہفتے آئی او سی میں باضابطہ شکایت دائر کی تھی، جس میں کہا گیا کہ انفانٹینو کا طرزِ عمل آئی او سی کے قواعد سے متصادم تھا۔
یہ شکایت اس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ انھوں نے فیفا صدر کو فون کر کے درخواست کی تھی کہ امریکا اور بیلجیئم کے درمیان پری کوارٹر فائنل سے قبل فولارین بالوگن پر عائد پابندی پر نظرثانی کی جائے۔ بعد ازاں فیفا کی ڈسپلنری کمیٹی نے ایک غیر معمولی فیصلے کے ذریعے اس پابندی کو 12 ماہ کے لیے معطل کر دیا۔
جیانی انفانٹینو 2020 سے آئی او سی کے رکن ہیں، جب کہ آئی او سی کے چارٹر کے مطابق ارکان پر لازم ہے کہ وہ سیاسی اور تجارتی مفادات سے آزاد ہو کر کام کریں۔ چارٹر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ارکان حکومتوں، اداروں یا کسی اور فریق سے ایسی ہدایات یا احکامات قبول نہیں کر سکتے جو ان کی آزادانہ رائے یا ووٹ پر اثر انداز ہوں۔
ٹرافی اور میڈل ٹرمپ نے پیش کیے، امریکی صدر کو اسٹیج سے ہٹانے کی کوشش
فیئر اسکوائر کا مؤقف ہے کہ اس معاملے پر انفانٹینو کی ٹرمپ سے گفتگو ان اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ تاہم انفانٹینو اس الزام کی تردید کرتے ہیں، اور ذرائع کے مطابق اس معاملے پر باضابطہ تحقیقات شروع ہونے کا امکان بھی کم ہے۔ آئی او سی ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی بین الاقوامی فیڈریشنز کے اپنے قواعد کے نفاذ میں مداخلت سے گریز کرتی ہے، خاص طور پر ایسے معاملات میں جہاں اندرونی اپیلوں کا عمل ابھی مکمل نہ ہوا ہو۔
ایک اور ذریعے کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں میں آئی او سی اور فیفا کے درمیان طاقت کا توازن نمایاں طور پر تبدیل ہو چکا ہے، اور اب آئی او سی تجارتی آمدنی اور نوجوان شائقین میں اپنی اہمیت برقرار رکھنے کے لیے فیفا پر پہلے سے زیادہ انحصار کرتی ہے۔
چوں کہ 2028 کے سمر اولمپکس لاس اینجلس میں منعقد ہوں گے، اس لیے آئی او سی امریکا میں فٹبال کی بڑھتی ہوئی مقبولیت، ورلڈ کپ سے حاصل ہونے والی ریکارڈ ٹکٹ فروخت اور آمدنی سے فائدہ اٹھانے کی خواہاں ہے، جس کے باعث بالوگن معاملے میں کسی کارروائی کا امکان مزید کم ہو جاتا ہے۔
اہم بات یہ بھی ہے کہ آئی او سی کو اب تک نہ تو یوئیفا اور نہ ہی بیلجیئم کی رائل فٹبال ایسوسی ایشن کی جانب سے کوئی باضابطہ شکایت موصول ہوئی ہے، حالاں کہ دونوں اداروں نے بالوگن کی پابندی معطل کرنے کے فیصلے پر تنقید کی تھی۔ بیلجیئم فٹبال ایسوسی ایشن نے کہا تھا کہ وہ تمام قانونی راستے، بشمول کورٹ آف آربیٹریشن فار اسپورٹ میں اپیل، کھلے رکھے گی، تاہم اسپین کے ہاتھوں کوارٹر فائنل میں شکست کے بعد اس معاملے پر خاموش ہے۔ ذرائع کے مطابق اب وہ اس معاملے کو مزید آگے نہ بڑھانے پر آمادہ ہے۔ ایسوسی ایشن کی صدر پاسکل فان ڈامے فیفا کونسل کی بھی رکن ہیں، جو فیفا کا مرکزی فیصلہ ساز ادارہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اس تنازع کے باوجود جیانی انفانٹینو کی پوزیشن فیفا میں برقرار دکھائی دیتی ہے۔ آئندہ سال ہونے والے صدارتی انتخاب سے قبل فیفا کی 211 میں سے 200 سے زائد رکن تنظیمیں انھیں ذاتی حمایت کے خطوط بھیج چکی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یوئیفا نے بھی گزشتہ ہفتے بیلجیئم کی حمایت میں سخت بیان جاری کرنے کے باوجود معاملے کو مزید آگے نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس بیان میں فیفا پر فٹبال کی ساکھ اور ورلڈ کپ کی شفافیت کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
جیانی انفانٹینو اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ انھوں نے اس معاملے پر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کی تھی، تاہم گزشتہ ہفتے فیفا کی جانب سے ان کے نام سے جاری بیان میں کہا گیا کہ دونوں رہنما مختلف موضوعات پر باقاعدگی سے گفتگو کرتے رہتے ہیں، اور انفانٹینو دیگر سربراہانِ مملکت سے بھی اسی نوعیت کے روابط رکھتے ہیں۔
انفانٹینو نے یہ بھی کہا کہ بالوگن کی پابندی ختم کرنے کا فیصلہ فیفا کی ڈسپلنری کمیٹی نے آزادانہ طور پر کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ڈسپلنری کمیٹی خودمختار انداز میں کام کرتی ہے، فیفا کے ڈسپلنری کوڈ کا اطلاق کرتی ہے اور ہر کیس کا فیصلہ متعلقہ قواعد اور دستیاب حقائق کی بنیاد پر کرتی ہے۔



