ڈھائی ہزار سال پرانے درخت موت کے پنجوں میں -
The news is by your side.

Advertisement

ڈھائی ہزار سال پرانے درخت موت کے پنجوں میں

براعظم افریقہ میں پائے جانے والے دنیا کے نایاب ترین ڈھائی ہزار سال قدیم درخت صرف ایک دہائی میں موت سے ہمکنار ہوگئے۔

افریقہ کے یہ درخت جنہیں عام طور پر باؤباب کہا جاتا ہے 11 سو سے ڈھائی ہزار سال کی عمر کے ہیں۔ ماہرین کے مطابق موسمی تغیرات یا کلائمٹ چینج کی وجہ سے یہ درخت مر رہے ہیں۔

سائسنی جریدے نیچر پلانٹ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق سب سے قدیم 13 درختوں میں سے کم از کم 9 درختوں کی جڑیں مر چکی ہیں۔ ان 9 میں سے 4 درختوں کو پورے براعظم افریقہ کے سب سے بڑے درختوں کی حیثیت حاصل ہے۔

تحقیقاتی ٹیم کے مطابق یہ درخت اب تک زمین پر موجود سب سے طویل عمر اور سب سے بڑے پھول دینے والے درخت ہیں۔

ان درختوں کو اڈنسونیا گرنڈیڈر بھی کہا جاتا ہے اور یہ منفرد ہیئت کے حامل ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اپنے قدرتی مقام پر یہ 3 ہزار سال تک زندہ رہ سکتے ہیں۔

یہ قدیم درخت اپنے اندر پانی کی بہت بڑی مقدار ذخیرہ کرسکتے ہیں، ان کے پھل انسانوں اور پرندوں دونوں کے کام آتے ہیں، ان کے پتے بھی ابال کر کھائے اور دواؤں میں استعمال کیے جاتے ہیں جن کا ذائقہ پالک جیسا ہوتا ہے۔

ان درختوں کی چھال سے ہیٹ، کپڑے، باسکٹ اور رسیاں بنائی جاتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ درخت بے حد مضبوط ہوتے ہیں اور آسانی سے نہیں مرتے، تاہم جس طرح ان قدیم درختوں کی موت واقع ہوئی ہے وہ نہایت تشویش ناک ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں