The news is by your side.

Advertisement

انٹارکٹیکا میں دیوہیکل برفانی تودہ ٹوٹ گیا

انٹارکٹیکا : قطب جنوبی میں واقع براعظم انٹارکٹیکا میں 6 ہزار مربع کلومیٹر برفانی تودہ شگاف پڑ جانے کے باعث ٹوٹ کر خطے سے علیحدہ ہوگیا۔ 

بڑھتا ہوا درجہ حرارت ماحولیات کے حوالے سے دنیا بھر کیلئے پریشانی کا سبب بن رہا ہے، انٹارکٹیکا میں چھ ہزار مربع کلومیٹر لارسن سی شیلف نامی برفانی تودے میں شگاف پڑگیا۔ شگاف کی وجہ سے تودہ خطے سے علیحدہ ہوگیا، علیحدہ ہونے والے تودے کے شگاف میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔

جرمن شہر بریمن ہافن میں واقع پولر اور میرین ریسرچ کے الفریڈ واگنر انسٹی ٹیوٹ کے مطابق یہ تودہ بدھ کے روز ٹوٹا ہے۔

یونیورسٹی آف سوائنسے کے سائنسدانوں نے بتایا کہ موسم کی تبدیلی کی وجہ سے برفانی تودہ خطے سے الگ ہوا ہے اور گزشتہ 30 برسوں میں ٹوٹنے والا یہ برف کا سب سے بڑا تودہ ہے۔

سائنسدان گزشتہ کئی ماہ سے انٹارکٹک میں ایک بہت بڑے شگاف کا مشاہدہ کر رہے تھے۔

برفانی تودہ انٹارکٹیکا کے شمالی حصے میں واقع ہے اور اس کی موٹائی 350 میٹر جبکہ یہ ایک ارب ٹن سے بھی زیادہ وزنی ہے۔

سال 2014 میں اس تودے میں دراڑیں پڑنے کے عمل میں تیزی آئی جبکہ گذشتہ دسمبر سے پائی جانے والی دراڑ بڑھتی جارہی تھی اور اِس چھ ہزار مربع کلومیٹر لمبے تودے کا صرف 20 کلومیٹر کا حصہ برفانی خطے سے جڑا ہوا تھا۔


مزید پڑھیں : خبردار! سب سے بڑا برفانی تودہ ٹوٹ جائے گا


ماہرین کے اندازوں کے مطابق یہ انتہائی بڑا تودہ ہے اور اس کو پگھلنے کے لیے بھی کم از کم دو سے تین برس لگ سکتے ہیں تاہم اس کی نگرانی ضروری ہے۔

اس سے قبل ماحولیاتی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اگر یہ برفانی تودہ مکمل طور پر ٹوٹ گیا تو مستقبل میں پورے شمالی انٹارکٹیکا کے ٹوٹ جانے کا اندیشہ ہے، جس کے نتیجے میں دنیا بھر کے ماحول پر بدترین اثرات مرتب ہونگے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے 1995 میں لارسن اے اور 2002 میں لارسن بی بھی اسی طرح انٹارکٹیکا کے شمالی خطے سے ٹوٹ کر الگ ہو گئے تھے۔

سائنسدانوں کے مطابق دنیا کے مختلف علاقوں میں موجود گلیشیئرز کا توازن بگڑ چکا ہے۔ یہ گلیشیئرز اس حد تک غیر مستحکم اور غیر متوازن ہو چکے ہیں کہ اگر موسمیاتی تبدیلیوں کا عمل آگے بڑھنے سے رک بھی جائے تو ان گلیشیئرز کی برف بدستور پگھلتی رہے گی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں