گلگت : شرپسندوں کے ہاتھوں جلائے جانے والے اسکول دوبارہ کھول دیئے گئے -
The news is by your side.

Advertisement

گلگت : شرپسندوں کے ہاتھوں جلائے جانے والے اسکول دوبارہ کھول دیئے گئے

گلگت : دیامر اور چلاس میں دہشت گردوں کے ہاتھوں تباہ ہونے والے اسکولوں میں ایک بار پھر زندگی کے رنگ نظر آنے لگے، دھماکوں سے تباہ شدہ اسکول دوبارہ تعمیر ہونے کے بعد کھل گئے۔

تفصیلات کے مطابق گلگت بلتستان کے ضلع دیامر اور چلاس میں رواں ماہ کے اوائل میں دہشت گردی کا شکار ہونے والے اسکولوں کو تعمیر کے بعد کھول دیا گیا ہے، علم کی متلاشی بچیاں مستقبل کے خوابوں کو پورا کرنے کے لئے پھر سے خوشی خوشی اسکول پہنچ گئیں۔

اس حوالے سے ترجمان گلگت بلتستان فیض اللہ فراق کا کہنا ہے کہ دیامر میں تباہ شدہ زیادہ اسکولوں کی تعمیر مکمل کرکے فعال کردیا گیا ہے۔

دیامر کی عوام امن پسند اور طلباء و طالبات علم کی متلاشی ہیں، شرپسندی پر قابو اور ہنگامی بنیادوں پر تباہ شدہ اسکولوں کی بحالی حکومت کی بڑی کامیابی ہے، گلگلت میں گرمی کی چھٹیوں کے بعد سرکاری اسکولوں میں پہلا دن تھا، تدریسی عمل معمول کے مطابق جاری رہا۔

مزید پڑھیں: چلاس میں لڑکیوں کے 12 اسکول نذر آتش

واضح رہے کہ گلگت کےعلاقوں دیامر اورچلاس میں تعلیم دشمنوں نے لڑکیوں کے بارہ اسکول مکمل طور پر جلا ڈالے تھے، پولیس کے مطابق نذر آتش کیے جانے والے اسکول دیامر، داریل، رونئی، تکیہ اور تبوڑ سمیت مختلف علاقوں میں قائم تھے، دو پرائمری اسکولوں کو دھماکہ خیز مواد سے بھی تباہ کیا گیا۔

مزید پڑھیں: دیامر میں اسکول جلانے میں ملوث تخریب کاروں کے 6 مزید سہولت کار گرفتار

اس حوالے سے سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے شر پسند عناصر کی سہولت کاری کرنے والے ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے، ملزمان کی گرفتاری اور تلاش میں دیامر جرگے نے مرکزی کردار ادا کیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں