سیلفی لینے پر لڑکا لڑکی قتل، تحقیقات میں پولیس کو مشکلات کا سامنا -
The news is by your side.

Advertisement

سیلفی لینے پر لڑکا لڑکی قتل، تحقیقات میں پولیس کو مشکلات کا سامنا

کراچی: شہرِ قائد کے علاقے اورنگی ٹاؤن پیر آباد میں سیلفی لینے پر لڑکے اور لڑکی کے قتل کی تحقیقات میں پولیس کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں سیلفی لینے پر لڑکا لڑکی کے قتل کے واقعے پر پولیس کا کہنا ہے کہ غیرت کے نام پر ہونے والے اس قتل کی تحقیقات جاری ہیں۔

مرینہ کی قبر کشائی کے لیے مقتولہ کی والدہ کا انتظار ہے، کہتی ہیں سوات میں ہوں جلد کراچی آؤں گی۔

پولیس

19 سالہ مرینہ کی قبر کشائی کے لیے پولیس کو مقتولہ کی والدہ کا انتظار ہے، پولیس کا دعویٰ ہے کہ مقدمے کے اندراج کے بعد والدہ کیس کی تفتیش میں تعاون نہیں کر رہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ عدالت میں والدہ کے بیان کے بغیر مقتولہ مرینہ کی قبر کشائی نہیں کر سکتے، والدہ سے رابطہ کرو تو کہتی ہیں کہ سوات میں ہوں جلد کراچی آؤں گی۔

پولیس کے بیان کے مطابق مرینہ کو 7 نومبر کو مبینہ طور پر والد اور دادا نے زہر دے کر قتل کیا تھا، اہلِ خانہ نے مرینہ کی موت کو خود کشی قرار دے کر تدفین کر دی تھی۔


یہ بھی پڑھیں:  سیلفی کا جنون ہر سال 43 افراد کی جان لے لیتا ہے


پولیس کا کہنا ہے کہ قتل کے 5 روز بعد مرینہ کی والدہ نے عدالت سے رجوع کر کے مقدمہ درج کرایا، والدہ نے بتایا کہ مرینہ کو اس کے والد اور دادا نے غیرت کے نام پر قتل کیا۔

بیان کے مطابق مرینہ نے سوات سے آنے والے کزن کے ہم راہ سیلفی بنوائی تھی، کزن سلمان کو بھی سوات واپس پہنچنے کے بعد فائرنگ کر کے قتل کیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ سلمان کا مقدمہ ابتدائی طور پر نا معلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا، جب کہ اس کے اہلِ خانہ نے بھی اب مرینہ کے والد اور دادا پر قتل کا شبہ ظاہر کیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں