پاکپتن میں انسانی جانوں سے کھلواڑ: غلط خون چڑھانے سے بچی جاں بحق، اتائی ڈاکٹر گرفتار -
The news is by your side.

Advertisement

پاکپتن میں انسانی جانوں سے کھلواڑ: غلط خون چڑھانے سے بچی جاں بحق، اتائی ڈاکٹر گرفتار

گزشتہ روز ویل چیئر پر دم توڑنے والی مریضہ کے متعلق اسپتال انتظامیہ نے وزیر اعلیٰ کو گول مول رپورٹ بھجوادی

پاکپتن: پنجاب کے ضلع پاکپتن میں انسانی جانوں سے کھلواڑ کا سلسلہ جاری ہے، آج ایک اتائی ڈاکٹر نے غلط خون چڑھا کر 8 سالہ بچی کو جان سے مار دیا۔

تفصیلات کے مطابق پاکپتن میں نجی اسپتال میں غلط خون چڑھائے جانے سے ایک بچی کی جان ضائع ہو گئی، اے آر وائی کی خبر پر اتائی ڈاکٹر عمران کو گرفتار کرلیا گیا۔

پاکپتن میں دو دن میں صحت کے اداروں کی غفلت کا یہ دوسرا واقعہ ہے، گزشتہ روز بھی دل کی مریضہ علاج نہ ہونے کے باعث دم توڑ گئی تھی۔

آج ایک نجی اسپتال میں آٹھ سال کی آرزو فاطمہ کو غلط خون چڑھا دیا گیا جس کے باعث وہ اپنی جان سے گئی، اے آر وائی نیوز کی خبر پر وزیرِ اعلی پنجاب عثمان بزدار نے نوٹس لے لیا۔

نجی اسپتال کے اتائی ڈاکٹر عمران کو پولیس نے گرفتار کر لیا، پولیس نے بچی کی ہلاکت کا مقدمہ تھانہ چک بیدی میں درج کرلیا۔

شناختی کارڈ کا تقاضا:  لڑکی نے ویل چیئر پر دم توڑا


واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی اٹھارہ سالہ لڑکی ویل چئیر پر تڑپتی رہی، جب کہ اسپتال انتظامیہ پرچی اور شناختی کارڈ کا تقاضا کرتی رہی، دل کی مریضہ کا علاج ایک گھنٹے بعد شروع کیا گیا جس کے باعث وہ دم توڑ گئی۔

دوسری طرف انتظامیہ ورثا پر مصالحت کے لیے دباؤ ڈالتی رہی، موت کے بعد علاج کے کاغذات پر زبردستی انگوٹھے لگوائے، اے آر وائی نیوز کی رپورٹ پر وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے نوٹس لیا۔

تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے اس واقعے کی وزیرِ اعلیٰ پنجاب کو رپورٹ بھجوا دی ہے، ڈی سی کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج، عملے اور ورثا کے بیانات بھیجوائے گئے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں کسی کو بھی ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا، انتظامیہ نےاسپتال عملے کو بچانے کے لیے گول مول رپورٹ بھجوائی، اسٹریچر یا ایمبولینس نہ دینے پر کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں کسی اہل کار کے خلا ف کارروائی کی سفارش بھی نہیں کی گئی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں