لاہور : پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے عملے نے ایک گمشدہ لڑکی کو 17 سال بعد اس والدین سے ملوا دیا، 10 سال کی عمر میں لاپتہ ہونے والی آج 27 برس کی ہوگئی۔
تفصیلات کے مطابق پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کی ’’میرا پیارا‘‘ ٹیم کی کوششوں سے کرن نامی بچی 17 سال کی گمشدگی کے بعد اپنے والدین کے پاس واپس پہنچ گئی۔
کراچی کے ایدھی سینٹر میں وہ منظر کسی فلمی لمحے سے کم نہ تھا، جب 17 سال قبل اسلام آباد سے گمشدہ لڑکی کرن جو اب 27 برس کی ہوچکی تھی اپنے بوڑھے باپ کی آغوش میں سمٹ گئی۔ آج وہ لمحہ جسے اس نے شاید ہمیشہ کیلیے کھو دیا تھا اچانک اس کی زندگی میں واپس لوٹ آیا۔
گمشدہ لڑکی کرن نے لرزتی آواز میں سال 2008 کا وہ دن یاد کیا جب وہ آئس کریم لینے گھر سے نکلی تھی، مگر قسمت نے اسے ایک ایسے راستے پر دھکیل دیا جہاں وہ اپنے خاندان تک نہ پہنچ سکی۔
کسی نامعلوم شخص نے اسے اسلام آباد کے ایدھی سینٹر پہنچا دیا اور بعد ازاں بلقیس ایدھی خود اسے کراچی لے آئیں جہاں اس کی نئی زندگی کا آغاز ہوا۔
صباء فیصل ایدھی کے مطابق برسوں تک کرن کے گھر والوں کو تلاش کرنے کی کوششیں ہوتی رہیں، کئی کوششوں کے باوجود والدین کا کوئی سراغ نہ ملا، لیکن امید کی آخری لو پھر بھی ٹمٹماتی رہی۔
دوسری جانب بچی کے والد عبدالمجید جو برسوں تک در و دیوار سے پوچھتے رہے کہ ان کی بیٹی کہاں ہے نے بتایا کہ ہماری تلاش کی ہر کوشش ناکام ہونے لگی تھی، وقت نے یقین کو مایوسی میں بدل دیا تھا، مگر اچانک ایک فون کال نے سب کچھ بدل دیا۔ پولیس کی اطلاع نے ان کے گھر میں وہ خوشی واپس لائی جس کی توقع کوئی نہیں کر رہا تھا۔
باپ نے چہرے پر بہتے آنسو اور لرزتی مسکراہٹ کے ساتھ کہا کہ میری خوشی الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتی میں نے اپنی بیٹی کو دوبارہ پا لیا ہے، یہ مجھ پر میرے رب کا خاص کرم ہے۔
کرن نے اپنی زندگی کے ان برسوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ایدھی سینٹر نے اسے نہ صرف مذہبی اور دنیاوی تعلیم دی، بلکہ ماں اور باپ کا پیار بھی دیا۔ اسے کھانا پکانا، سلائی کرنا اور زندگی کی وہ ہمت ملی جو ٹوٹے دلوں کا سہارا بنتی ہے۔
ایدھی سینٹر کے مطابق کرن کراچی کی وہ پانچویں لڑکی ہے جس کے اصل والدین کو تلاش کیا گیا ہے اور پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کی کوششوں سے وہ اپنے خاندان تک لوٹ سکی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں



