site
stats
لائف اسٹائل

ہراساں کرنے والے مردوں کو سبق سکھانے والی طالبہ

girl take selfie

ایمسٹرڈیم: راہ چلتی خواتین کو ہراساں کرنے والے مردوں کو بے نقاب کرنے اور سبق سکھانے کے لیے نیدر لینڈ کی نوجوان طالبہ نے انوکھا کام شروع کردیا۔

عام طور پر خواتین کو راہ چلتے ہراساں کرنے کے واقعات دکھائی اور سنائی دیتے ہیں تاہم کوئی بھی شخص ان کے خلاف اقدامات کرتا نظر نہیں آتا، نیدر لینڈ کی 19 سالہ طالبہ نے ایسے لوگوں کو سبق سکھانے کا انوکھا طریقہ نکالا۔

نوا جینسما نامی نوجوان طالبہ خواتین کو ہراساں کرنے والے مردوں کو بے نقاب کرنے کے مشن پر گزشتہ تین سال سے لگی ہوئی ہیں، وہ راہ چلتے خواتین کو غلط نظر سے دیکھنے والےمردوں کے پاس جاکر اُن کے ساتھ سیلفی لیتی ہیں۔

نوجوان طلبہ سیلفی لینے والے شخص کی تصویر اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پرمنفرد اسٹیٹس کے ساتھ شیئر کرتی ہیں، خاتون کا کہنا ہے کہ جو مرد جس نیت سے انہیں دیکھتا ہے اُس کی تصویر کے ساتھ وہی الفاظ لکھ کر اُسے بے نقاب کرتی ہیں۔

مردوں کو انوکھے طریقے سے بے نقاب کرنے والی طالبہ کو سوشل میڈیا پر بہت سراہا جارہا ہے۔

پڑھیں: سیلفی لینے کی کوشش، پکڑے جانے پر والدہ شرمندہ

#dearcatcallers “I know what I would do with you, baby”

A post shared by dearcatcallers (@dearcatcallers) on

Classic 2.0 “psssst, whoooooop, Can he have your number?” #dearcatcallers

A post shared by dearcatcallers (@dearcatcallers) on

slowly following me 2 streets shouting “sexy!” and “wanna come in my car?” #dearcatcallers

A post shared by dearcatcallers (@dearcatcallers) on

#dearcatcallers “meisjeeeeee!” *gefluit* / Girlllllllll! *whistling*

A post shared by dearcatcallers (@dearcatcallers) on

یہ بھی پڑھیں: سیلفی کی عادت آپ کی دماغی صحت کیلئے خطرے کا باعث بن سکتی ہے

یاد رہے کہ دنیا بھر میں سیلفی لینے کا جنون اس قدر حد تک بڑ چکا ہے کہ ہر سال سیکڑوں نوجوان خطرناک تصاویر لینے کے چکر میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، امریکا سمیت دیگر ممالک میں خطرناک یا بلند مقامات پر سیلفی لینے پر پابندی عائد کی جاچکی ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top