The news is by your side.

Advertisement

برطانیہ سے تعلق رکھنے والی سابق’پارٹی گرل‘ مشرف با اسلام

لندن: برطانیہ سے تعلق رکھنے والی ڈانسر اور ’پارٹی گرل‘ نے گناہوں کی زندگی چھوڑ کر اسلامی تعلیمات پر چلنے کا اعلان کردیا۔

برطانوی خبررساں ادارے نے اسلام قبول کرنے والی خاتون سے متعلق ایک ڈاکومینٹری شیئر کیں، جس کا عنوان ’یہ لڑکی تبدیل ہوگئی‘ رکھا گیا ہے۔

یہ کہانی برطانیہ سے تعلق رکھنے والی خاتون  ستائیس سالہ کی ہے جنہوں نے قبولِ اسلام کے بعد اپنا نام پرسیفون رضوی رکھا لیا۔

انہوں نے بتایا کہ اُن کی پیدائش اور پرورش برطانیہ کے شہر ہڈرز فیلڈ میں ہوئی، جوانی کی دہلیز میں داخل ہونے کے بعد انہوں نے شوق میں کئی لڑکوں سے دوستیاں کیں، جس کے بعد وہ ہر ہفتے نائٹ کلب جاتی تھیں۔

انہوں نے اپنی پرانی زندگی کو گناہوں سے بھری ہوئی قرار دیتے ہوئے بتایا کہ ’ہفتے کی ساری رات وہ وقت اچھا گزارنے کے لیے ڈانس کلب میں نامحرم لڑکوں کے ساتھ رقص کرتیں، نشہ کرتیں تھیں، بعد ازاں انہوں نے اسی کام کو بطور پروفیشن اپنا لیا‘۔

خاتون نے بتایا کہ ایک وقت کے بعد جب وہ زندگی سے تنگ آئیں تو انہوں نے ڈانس کلب چھوڑ کر ایک کال سینٹر میں ملازمی کی، جہاں اُن کی ملاقات حلیمہ نامی ترک خاتون سے ہوئی، جس نے اسلام اور شرعی تعلیمات کے حوالے سے بتایا۔

پرسیفون رضوی نے بتایا کہ لندن اور مانچسٹر یونیورسٹی سے ڈگری حاصل کرنے کی وجہ سے انہیں مطالعے کا شوق تھا، حلیمہ سے ملاقات کے بعد انہوں نے اسلامی تعلیمات کا مطالعہ شروع کیا، جس میں بہت ساری باتیں سامنے آئیں اور اسلام نے انہیں متاثر کیا۔

خاتون نے بتایا کہ انہوں نے مکمل تحقیق اور مطالعے کے بعد وہ اپنے ماضی پر نادم ہوئیں اور اسلام قبول کر کے اپنا گناہوں کی معافی مانگی۔

انہوں نے بتایا کہ اسلام قبول کرنے کے بعد زندگی بہت تبدیل ہوگئی ہے، جس روحانی سکون سے پہلے وہ محروم تھیں اب میسر آگیا اور زندگی گزارنے کا مقصد بھی سامنے آگیا ہے۔ انہوں نے روزے اور نماز کے عمل کو انتہائی شاندار اور زبردست بھی قرار دیا۔

پرسیفون نے امید ظاہر کی کہ اُن کی زندگی پر بنائی جانے والی ڈاکیومنٹری کئی خواتین کی زندگی کو بدلنے میں مدد فراہم کرے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں