site
stats
خواتین

خواتین کے بغیر، خواتین کے لیے بنائی جانے والی کونسل

ریاض: جب ہم کسی مخصوص طبقے یا جنس کی بہتری اور فلاح و بہبود کی بات کرتے ہیں، تو ضروری ہوتا ہے کہ اس طبقے یا جنس کے نمائندہ افراد کو ہر قدم پر ساتھ رکھا جائے تاکہ ان کے حالات سے درست واقفیت حاصل ہوسکے۔

تاہم سعودی عرب میں جب لڑکیوں کے لیے ایک کونسل بنائی گئی تو اس میں لڑکیوں ہی کی شمولیت کو قطعی غیر ضروری سمجھا گیا اور مردوں نے خود ہی کونسل کے قیام اور اس کے اغراض و مقاصد طے کر ڈالے۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب سعودی عرب کے صوبے القاسم میں لڑکیوں کی کونسل کی پہلی میٹنگ منعقد کی گئی۔ میٹنگ کی جاری کی جانے والی تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اسٹیج پر 13 مرد حضرات براجمان ہیں اور بظاہر مقررین یا ناظرین میں کوئی بھی خاتون یا لڑکی موجود نہیں۔

saudi-arab-2

ایک سعودی اخبار کا کہنا ہے کہ خواتین ایک دوسرے کمرے میں موجود تھیں جو ہال میں ہونے والی کارروائی سے بذریعہ ویڈیو لنک منسلک تھیں۔

تصاویر کے سوشل میڈیا پر آنے کی دیر تھی کہ سعودی ریاست اور حکمرانوں کے خلاف تنقید کا طوفان امڈ آیا۔

قاسم گرلز نامی یہ کونسل صوبے کے گورنر شہزادہ فیصل بن مشعال بن سعود نے قائم کی ہے اور اس کے قیام کے وقت ان کا کہنا تھا، ’القاسم صوبے میں ہم خواتین کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں اور ہم ان کے کام کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرنا چاہتے ہیں‘۔

کونسل کی سربراہ شہزادے کی اہلیہ عبیر بنت سلیمان ہیں اور وہ بھی تصاویر میں موجود نہیں۔

یاد رہے کہ سعودی عرب میں سرپرستی نظام نافذ ہے جس کے تحت خواتین اپنے گھر کے مردوں کے بغیر نہ تو سفر کر سکتی ہیں، نہ ہی ان کی اجازت کے بغیر شادی کر سکتی ہیں اور نہ انہیں ان کی اجازت کے بغیر کام کرنے کی اجازت ہے۔

بعض اوقات وہ سخت بیماری کی حالت میں بھی صرف اس لیے بھی طبی سہولیات حاصل کرنے سے محروم ہوجاتی ہیں کیونکہ انہیں ڈاکٹر کے پاس لے جانے کے لیے کوئی مرد دستیاب نہیں ہوتا۔

سعودی عرب دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں خواتین کے گاڑی چلانے پر بھی پابندی عائد ہے۔

مزید پڑھیں: میں اپنی سرپرست خود ہوں، سعودی خواتین کا احتجاج

میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے گورنر کا کہنا تھا کہ خواتین ہمارے معاشرے کا نصف حصہ ہیں، تاہم ان کی ہدایت پر جاری کی گئی تصاویر اس کی نفی کرتی نظر آتی ہیں۔

البتہ اب ماہرین کا کہنا ہے کہ اقتصادی گراوٹ اور معاشی بحران کو دیکھتے ہوئے سعودی عرب کو اپنے بہت سے سخت قوانین کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ سعودی عرب کی ترقی کے لیے تشکیل دیا جانے والا ایجنڈا وژن 2030 کے تحت ملک میں کام کرنے والی خواتین کا حصہ 22 فیصد سے بڑھا کر 30 فیصد کیا جانا ضروری ہے۔

کچھ عرصہ قبل سعودی عرب میں دو اہم کاروباری فیصلہ ساز عہدوں پر بھی خواتین کا تقرر کیا گیا ہے جس کے بعد سے امید کی جارہی ہے کہ ملک میں خواتین کے لیے حالات میں کچھ بہتری آئے گی۔

اس سے قبل شاہی خاندان کے بے باک رکن اور ریاست میں خواتین کے حقوق اور خود مختاری کے حامی شہزادہ ولید بن طلال نے بھی مطالبہ کیا تھا کہ سعودی عرب میں خواتین کی ڈرائیونگ پر عائد پابندی کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو ڈرائیونگ سے محروم کرنا ایسا ہی ہے جیسے انہیں ان کے بنیادی حق سے محروم کردیا جائے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top