The news is by your side.

بروقت انتباہ پگھلتے ہوئے گلیشیر سے ممکنہ جانی نقصان سے بچاسکتا ہے

مئی میں پاکستان میں گرمی کی ایک لمبی اور شدید قسم کی لہر آئی جس کی وجہ سے شمالی پاکستان میں وادیٔ ہنزہ میں ایک برفیلی جھیل پھٹ گئی۔ سیلاب اپنے ساتھ نہ صرف ایک تاریخی پل بہا کر لے گیا بلکہ چھ گھر، زرعی زمین، باغات اور دو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ بھی تباہ کر گیا۔

اتنی بڑی مصیبت کے باوجود کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گاؤں کے لوگوں کے لیے سیلاب کا آنا حیرت کی بات نہیں تھی۔

ششپر گلیشیر نے 2018 میں دوبارہ بڑھنا شروع کیا۔ اور اس کے بڑھنے کی وجہ سے ساتھ والے موچوہر گلیشیر کا راستہ بند ہو گیا، جس کے نتیجے میں برفانی جھیل بن گئی اور جو کہ ہر سال گرمی کے موسم میں شروع میں پھٹ جاتی ہے۔

پاکستان کی وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے مطابق، یہ گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں کی 33 خطرناک ترین برفانی جھیلوں میں سے ایک ہے۔

پچھلے سال، مئی کے آخر میں بھی ایسا ایک سیلاب آیا، جس نے حسن آباد کے 170 میں سے 20 گھرانوں کو بے گھر کر دیا۔ موجودہ سال 16 گھر زیرِ آب آگئے اور اُنہیں نقصان پہنچا۔ خطرے کے باوجود، 2018 میں گلیشیر میں اضافے کے بعد سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

سال 2020 کے ابتدا میں ایک ابتدائی انتباہی سسٹم نافذ کیا گیا اور 1300 میٹر کشادہ اور 60 میٹر لمبی ششپر گلیشیر کی مستقل مانیٹرنگ کی گئی۔

حکام اور مقامی تنظیمیں نہایت چوکنے رہے اور ہمیں آگاہ رکھا ” طارق جمیل نے مئی کے سیلاب کے بارے میں” بتایا۔ جمیل حسن آباد میں ایک کسان اور کمیونٹی لیڈر ہیں جو کہ حکام اور کمیونٹی کے درمیان آفت کے حوالے سے باہمی تعاون کرتے ہیں۔

فرخ بشیر، محکمہ موسمیات پاکستان کے ڈپٹی ڈائریکٹر گلگت بلتستان نے کہا کہ جب سے جھیل بنی ہے ان کا محکمہ گلیشیر کو بہت غور سے دیکھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جھیل کے پھٹنے کی پیش گوئی بالکل درست طریقے سے کی گئی ہے، حکام نے فروری کے مہینے میں ہی خبردار کر دیا تھا کہ اپریل کے آخر اور مئی کے ابتدا میں جھیل کا پھٹنا ممکن ہوسکتا ہے۔ خطرے کی وارننگ 27 اپریل اور 7 مئی کو جاری کی گئی تھی۔

بشیر نے مزید کہا کہ “ہم نے تمام متعلقہ حکام اور کمیونٹیز کو جھیل کے پھٹنے سے کم از کم 24 گھنٹے قبل اہم صورتحال سے آگاہ کر دیا تھا۔”

“ہم زیادہ نقصانات سے بچنے میں کامیاب ہو گئے۔” جمیل نے کہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ شیشپر گلیشیر خطرناک ہے کیونکہ یہ انسانی بستیوں کے بہت قریب ہے۔ ہائی وے اور حسن آباد گاؤں سے 4 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، اور سیلاب کو گاؤں تک پہنچنے میں صرف 15 منٹ لگتے ہیں۔

درست اور بَروقت آگاہی کا مطلب یہ ہے کہ لوگ خطرناک جگہوں سے نکل سکتے ہیں حتی کہ اپنے سامان کو بھی منتقل کرسکتے ہیں۔” کچھ لوگوں نے گھروں کے اسٹرکچر جن کو خطرہ تھا منتقل کر دیا تھا۔”

شیشپر گلیشیر پر ارلی وارننگ سسٹم کیسے کام کرتا ہے؟

محمد علی، اسسٹنٹ ڈائریکٹر گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ضلع ہنزہ، نے کہا ہے کہ ان کی تنظیم جھیل کے پانی کی آمد و اخراج کی ہر روز نگرانی کرتی ہے۔ گلیشیر پر ایک کیمرہ نصب ہے جو کہ یہ اندازہ لگاتا ہے کہ جھیل میں کتنا پانی ہے۔ اس کیمرے کی گلگت بلتستان مینجمنٹ اتھارٹی دور سے نگرانی کرتی ہے۔

بشیر نے کہا پاکستان موسمیات محکمہ ہر 16 دن بعد جھیل کے سیٹلائٹ امیجز وصول کرتا ہے، اگر بادل نہ ہو تو۔ شیشپر اور موچوہر گلیشیر کے پانی بدلتی ہوئی کیمیکل کی خصوصیات بھی پاکستان موسمیات محکمہ تصرفات میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ ڈائریکٹر گورنمنٹ کی ٹیمیں باقاعدگی سے جھیل کا دورہ کرتی ہیں۔

اس بات کو بھی یقینی بناتا ہے کہ کمیونٹیز کسی بھی قسم کی آفت کی صورت میں تیار رہیں۔ گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی آگاہی مہم کے زیر اہتمام 8 مئی کے متوقع سیلاب سے پہلے ہی کئی بار علاقے کے لوگوں کے لیے عملی تربیت اور آگاہی پروگرام جن میں کمیونٹیز، خواتین، نوجوان، بزرگ اور رضا کار شامل تھے، منعقد کیے گئے۔ ان پروگراموں کا مقصد یہ شعور اجاگر کرنا تھا کہ قدرتی آفات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل سے کس طرح مؤثر طریقے سے نمٹا جاسکتا ہے۔ ان میں ابتدائی طبی امداد اور کیمپ کا انتظام کرنا اور متاثرہ افراد کی جلد اور مؤثر طریقوں سے مدد کرنا شامل ہے۔

بہرحال، شیشپر گلیشیر پر کوئی خود کار ابتدائی انتباہی کا نظام نہیں ہے جو کہ خطرے سے پہلے ایک خود کار سائرن بجا سکے۔ علی نے کہا کہ توقع ہے کہ متحدہ نیشنز ڈویلپمنٹ پروگرام کا گلوف ٹو پروجیکٹ اس سال آخر تک ایسا نظام نصب کرے گا۔

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینیجمینٹ اتھارٹی کے پاس تین سالوں کے نگرانی کے نتائج کا مکمل ریکارڈ محفوظ ہے۔ یہ ریکارڈ برفانی جھیل کی تبدیلیوں کا تجزیہ کرنے میں بہت معاون ثابت ہوا ہے۔

محکمۂ موسمیات پاکستان اور گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مشترکہ تجزیے کے مطابق 4.0 اسکوائر کلو میٹر (ایک علاقہ جو کہ تقریباً 75 فٹبال پیچز کے برابر ہے)، باوجود شدید سیلابی پانی کے بہاؤ اور دباؤ کے، جھیل میں پچھلے سال کے مقابلے میں اس سال پانی کم جمع ہوا۔ علی نے مزید بتایا کہ پچھلے سال کی نسبت اس سال جھیل کی صفائی کا کام دس گھنٹے پہلے مکمل کر لیا گیا۔ گزشتہ سال یہ کام 72 گھنٹوں میں جبکہ رواں سال 62 گھنٹوں میں مکمل ہوا۔ رواں سال درجۂ حرارت کے بڑھنے کی وجہ سے گلیشیئرز تیزی سے پگھلے جن کی وجہ سے جھیل کی پشتیں کمزور پڑیں اور کئی بار ٹوٹ بھی گئیں، انہوں نے کہا۔

پاکستان کی پہاڑی کمیونٹیز کو محفوظ بنانا

گلیشیر کے پگھلنے اور جھیل کے پھٹنے کی وجہ سے ہونے والی تباہی کے حوالے سے اکثر شیشپر گلیشیر کو مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ گورنمنٹ کی نئی موسم کی تبدیلی کی ٹاسک فورس کی ابتدا کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے شیشپر گلیشیر پر ہونے والی تباہ کاریوں سے بچنے پر زور دیا۔

ایک بیان میں، پاکستان کی کلائمٹ چینج کی منسٹر شیری رحمان نے کہا کہ شیشپر واقعہ کلائمٹ چینج کے شدید اثرات کی وجہ سے ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس آفت کا تعلق بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت سے ہے جو کہ پاکستان میں گرمی کی لہر کی وجہ سے ہے۔

لیکن مسئلہ شیشپر اور ہنزہ وادی سے کہیں آگے ہے۔ اقوام متحدہ ڈویلپمنٹ پروگرام کے مطابق، بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت کی وجہ سے پاکستان کے شمالی علاقوں کے گلیشیر تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس کی وجہ سے 3044 برفانی جھیلیں بن چکی ہیں۔

گلگت بلتستان اور خیبر پختون خوا میں مئی میں مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ایک بڑا پاسو گلیشیر اوپری ہنزہ میں تیزی سے پگھلنا شروع ہوگیا ہے، جس کی وجہ سے پاسو گاؤں اور ایک بہت اہم پُل قراقرم ہائی وے کو سخت خطرہ لاحق ہوا۔ پگھلتے ہوئے گلیشیر سے تیزی سے بہتے ہوئے پانی نے پُل کی بنیادوں کو نقصان پہنچایا۔

خطرے کو کم کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ ابتدائی انتباہی نظام کو بہتر بنایا جائے۔ محمد فہیم، پاکستان محکمہ موسمیات ڈپٹی ڈائریکٹر خیبر پختون خوا نے کہا کہ گلوف-2 پراجیکٹ کے تحت چترال ڈسٹرکٹ کی تین وادیوں کا انتخاب کیا گیا ہے جہاں ارلی وارننگ سسٹم نصب کیے جائیں گے۔ فہیم پرامید تھے کہ اس سال کے اختتام پر ان سسٹمز کو ڈیجیٹائیز کر دیا جائے گا اور یہ حکام اور کمیونٹیز کو خطرات کے بارے میں درست اطلاع دیں گے۔ چترال کی گولن گول وادی میں ارلی وارننگ سسٹم کے پراجیکٹ کو بہتر کیے جانے کا عمل جاری ہے۔

ارلی وارننگ سسٹم سارے نقصانات سے نہیں بچا سکتے!

بہترین ارلی وارننگ سسٹم بھی جھیل کے پھٹنے کے نتیجے میں سیلاب کے نقصان سے نہیں بچا سکتے۔ اس سال حسن آباد میں “کچھ ساختی نقصانات سے بھی نہیں بچا جا سکا۔” طارق جمیل نے کہا۔ جمیل نے کہا کہ 2018 میں جب شیشپر گلیشیر نے بڑھنا شروع کیا تو ان کو تقریبا 10 کنال زمین (50,000 اسکوائر میٹر) اور 180 درختوں کا نقصان ہوا۔

شیشپر گلیشیر کی وجہ سب سے زیادہ بڑا خطرہ میلانیائی اراضی کو ہے۔ علی نے کہا کہ جس کا مطلب یہ ہے کہ سیلاب تیزی سے سفر کرتا ہے جو کہ کٹاؤ کا باعث بنتا ہے۔ سیلاب کا پانی اور تباہ شدہ چیزوں کی باقیات بہت تیزی سے آبادی کے علاقوں میں پہنچتی ہیں اور حفاظتی پشتے سیلاب کے دباؤ کو برداشت نہیں کر سکتے۔

شہزاد شگری، جو کہ ماحولیاتی تحفظ ایجنسی گلگت بلتستان کے ڈائریکٹر ہیں، نے کہا کہ اس علاقے کی آب و ہوا بہت حساس ہے اور آسانی سے تباہی کا شکار ہوتی ہے۔ اس لیے اس علاقے کو ایسے انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے جو آب و ہوا سے متاثر نہ ہو۔

شگری نے کہا “آب و ہوا سے متعلق واقعات کو ہم روک نہیں سکتے لیکن ہم اس کے اثرات کو کم کر سکتے ہیں اور ایسے اقدامات جیسے کہ جنگلات اگانا اخراج کو کم کر سکتے ہیں۔”

(پپی ایم بیگل کی یہ رپورٹ The Third pole (ویب سائٹ) سے لی گئی ہے جس کی دوبارہ اشاعت کا مقصد لوگوں کو ماحولیات سے متعلق آگاہی اور معلومات فراہم کرنا ہے)

Comments

یہ بھی پڑھیں