شمالی علاقوں میں گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار میں اضافہ -
The news is by your side.

Advertisement

شمالی علاقوں میں گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار میں اضافہ

اسلام آباد: وزارت برائے موسمیاتی تبدیلی (کلائمٹ چینج) نے متنبہ کیا ہے کہ درجہ حرارت میں اضافے کے باعث چترال اور گلگت بلتستان کے کچھ حصوں میں 5000 کے قریب گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔

وزارت برائے کلائمٹ چینج کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد سلیم شیخ کے مطابق عالمی حدت میں اضافہ (گلوبل وارمنگ) کے جو مضر اثرات پاکستان پر پڑ رہے ہیں ان میں گلیشیئرز کا پگھلنا، سطح سمندر میں اضافہ، درجہ حرارت میں اضافہ، خشک سالی کی مدت میں اضافہ اور صحرائی علاقوں میں وسعت (ڈیزرٹیفکیشن) شامل ہے۔

مزید پڑھیں: گلوبل وارمنگ سے گردوں کے امراض میں اضافے کا خطرہ

انہوں نے بتایا کہ رواں برس گرمیوں کے موسم میں گلیشیئرز کے اوسط بہاؤ میں اضافہ دیکھا گیا جس سے دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں بھی اضافہ ہوا۔ ’یہ بہت واضح ہے کہ گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں‘۔

g2

شمالی علاقوں میں ہنزہ، گوپس، اسکردو، گلمت اور بگروٹ کے مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اب سردیوں میں بھی گلیشیئرز پگھل رہے ہیں۔ ایسا ان کی زندگی میں پہلی بار ہورہا ہے اور انہوں نے پہلے کبھی اس کا مشاہدہ نہیں کیا۔

ایک مقامی شخص کے مطابق پہاڑی علاقوں میں گرمی میں درجہ حرارت 30 سے اوپر کبھی نہیں گیا لیکن اب یہ 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک چلا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: کلائمٹ چینج کی طرف توجہ دلانے کے لیے قطب شمالی میں پیانو کی پرفارمنس

محمد سلیم نے یہ بھی بتایا کہ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے بارشوں کے موسم کے دورانیہ میں اضافہ ہوگیا ہے جبکہ برفباری کے موسم کے دورانیہ میں کمی ہورہی ہے۔ اس دورانیہ میں کمی کی وجہ سے گلیشیئرز پر برف رک نہیں پارہی۔

g3

محمد سلیم کے مطابق ’ان دونوں موسموں میں تبدیلی شدید سیلاب کا بھی باعث بن رہی ہے جس کی وجہ سے ان ترقی پذیر علاقوں کو بے تحاشہ مالی نقصانات کا سامنا ہے‘۔

اس سے قبل پاکستانی سائنسدانوں نے ایک تحقیق کی تھی جس کے مطابق دریائے سندھ کے کنارے واقع قراقرم پہاڑی سلسلہ کے گلیشیئرز مستحکم ہیں اور ان کی برف میں اضافہ ہورہا ہے تاہم سائنسی بنیاد پر کیے جانے والے مشاہدوں سے پتہ چلا کہ درجہ حرارت میں اضافہ کے باعث گلیشیئرز کی بڑی تعداد تیزی سے پگھل رہی ہے۔

مزید پڑھیں: کلائمٹ چینج سے خواتین سب سے زیادہ متاثر

واضح رہے کہ گذشتہ برس کلائمٹ چینج کے اثرات سے نمٹنے کے لیے پیرس میں ایک تاریخ ساز معاہدے پر دستخط کیے جاچکے ہیں۔ اس معاہدے کو پیرس کلائمٹ ڈیل کا نام دیا گیا ہے۔

g5

اس کے تحت 195 ممالک نے عہد کیا کہ وہ اپنی صنعتی ترقی کو محدود کریں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ان کی صنعتی ترقی کے باعث عالمی درجہ حرات میں 2 ڈگری سینٹی گریڈ سے زائد اضافہ نہ ہو۔

مزید پڑھیں: کلائمٹ چینج کے باعث پہلا ممالیہ معدوم

پاکستان بھی اس معاہدے پر دستخط کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں