The news is by your side.

Advertisement

آرائش سے سائنس تک مسلمانوں کا فنِ شیشہ گری جس‌ نے دنیا کو حیران کیا

تاریخ کے اوراق الٹیں تو معلوم ہو گا کہ ساتویں صدی عیسوی کے بعد جب دنیا کے مختلف خطّوں میں اسلامی خلافت اور سلطنتیں قائم ہوئیں تو علم و ادب اور فنونِ لطیفہ کے ساتھ صنعت و حرفت کے میدان میں‌ بھی ترقی ہوئی اور ہنرمندوں، کاری گروں نے اپنا کمال دکھایا۔

مسلمان ہی نہیں نام ور غیرمسلم تاریخ نویسوں اور ماہرینِ آثار نے بھی اپنی کتب میں لکھا ہے کہ صنعت و حرفت پر مسلمان حکم رانوں نے خاص توجہ دی اور فنِ شیشہ گری کو بھی مسلمانوں نے نکھارا اور اسے فروغ دیا۔ تاہم اُس دور کے بعض غیر مسلم ہنرمندوں اور کاری گروں کا کام اور ان کی خدمات کا بھی تذکرہ ضروری ہے۔

آٹھویں صدی عیسوی میں‌ سلاطین و خلفا کی سرپرستی اور توجہ کے سبب جہاں‌ شیشے سے محلات کی سجاوٹ، مساجد اور مدارس کی آرائش کا کام کیا جانے لگا، وہیں مسلمان موجدین، سائنس دانوں اور کاری گروں نے عینک کے شیشوں سے لے کر کیمیائی جار اور طبی ضرورت کا مختلف سامان، خوب صورت چراغ اور فانوس بھی تیار کیے اور یوں‌ کہا جاسکتا ہے کہ کاری گر صرف آرائشی مصنوعات تک محدود نہ تھے بلکہ اس دور میں‌ ایسا سامان اور اشیا تیار کی گئیں جو سائنسی علوم اور تجربہ گاہوں میں اس وقت کے ماہرین کے لیے‌ مددگار اور مفید ثابت ہوئیں۔

مسلمان ہنر مند اور کاری گر جس ملک یا شہر گئے صنعت و حرفت کا یہ سلسلہ وہاں‌ تک پھیلا۔ مزید ترقی ہوئی تو سادہ اور شفاف شیشہ رنگ دار ہو گیا۔ سلاطین و امرا کے محلات اور اہم مراکز اور مذہبی عمارتوں کے اندر اور باہر رنگین شیشوں کا کام ان کی خوب صورتی بڑھانے لگا۔ بعد کے دور میں‌ شیشوں پر نقش و نگار ابھارنے کا کام بھی شروع ہو گیا۔

تاریخ بتاتی ہے کہ یورپ نے رنگين شیشوں اور ان پر نقش و نگار بنانے کا ہنر اسی دور کے کاری گروں سے سیکھا اور انہی سے استفادہ کیا۔ مسلمانوں‌ نے اس ہنر اور صنعت میں‌ عروج حاصل کیا اور دنیا کو حیران کر دیا۔

مصر، شام اور فارس اور دیگر ممالک کے ہنرمندوں اور نقّاشوں نے شیشے سے نازک، رنگ دار، منقش اور نہایت دیدہ زیب صراحیاں، گل دان، پیالے، بوتلیں، جار اور دوسرا استعمال کا تیار کرکے اپنے فن کا لوہا منوایا۔

صنعت و حرفت میں‌ یہ ترقی اور اوج مسلمانوں کا وہ امتیاز ہے جسے دنیا مانتی ہے اور یہ مسلمانوں کا عظیم ورثہ ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں