site
stats
ماحولیات

زمین 60 ہزار سے زائد اقسام کے درختوں کا گھر

کیا آپ جانتے ہیں ہماری زمین پر درختوں کی تقریباً 60 ہزار سے زائد اقسام موجود ہیں؟

عالمی تنظیم برائے تحفظ نباتاتی باغات بی جی سی آئی نے درختوں کے حوالے سے پہلی جامع تحقیق کی اور اس تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں 60 ہزار 65 اقسام کے درخت پائے جاتے ہیں۔

trees-4

ادارے نے یہ جامع تحقیق دنیا بھر کی 500 مختلف تنظیموں کی مدد کے ساتھ انجام دی۔

جرنل آف سسٹین ایبل فاریسٹری میں شائع کی جانے والی تحقیق میں بتایا گیا کہ دنیا بھر میں درختوں کی سب سے زیادہ اقسام برازیل میں پائی جاتی ہیں جہاں درختوں کی 8 ہزار 715 اقسام موجود ہیں۔

مزید پڑھیں: ایک ارب درخت لگانے کا منصوبہ تکمیل کے قریب

دوسرے درجے پر کولمبیا 5 ہزار 776 اقسام اور تیسرے درجے پر انڈونیشیا 5 ہزار 142 اقسام کا گھر ہے۔

تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا ہے کہ اس جامع تحقیق سے ہمیں درختوں کا مکمل ڈیٹا حاصل ہوگیا جس کے بعد ان کے تحفظ اور بچاؤ کی کوششوں میں مزید بہتری لائی جائے گی۔

trees-3

درختوں کی یہ فہرست ان افراد اور اداروں کو بھی مدد فراہم کرے گی جو درختوں کی نایاب اقسام کو محفوظ رکھنا اور انہیں بچانا چاہتے تھے۔

ماہرین نے بتایا کہ اس فہرست کو مستقل اپ ڈیٹ کیا جاتا رہے گا کیونکہ عمومی طور پر ہر سال درختوں کی 2 ہزار نئی اقسام کو دریافت کیا جاتا ہے۔

درختوں کی بڑی تعداد خطرے کا شکار

ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں اس وقت درختوں کی 9 ہزار سے زائد اقسام خطرے کا شکار ہیں اور خدشہ ہے کہ بہت جلد یہ اقسام ختم ہوجائیں گی۔

ان کے مطابق اس کی سب سے بڑی وجہ درختوں کی بے دریغ کٹائی ہے جس کی وجہ سے جنگل کے جنگل ختم ہو رہے ہیں۔

trees-2

ماہرین کہتے ہیں کہ اس بے دریغ کٹائی کی وجہ شہروں کا تیز رفتار اور بے ہنگم پھیلاؤ، زراعت کے لیے درختوں کو کاٹ دینا، اور گلوبل وارمنگ (درجہ حرارت میں اضافہ) ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جب کسی مقام پر موجود جنگلات کی کٹائی کی جاتی ہے تو اس مقام سمیت کئی مقامات شدید سیلابوں کے خطرے کی زد میں آجاتے ہیں۔ وہاں پر صحرا زدگی کا عمل شروع ہوجاتا ہے یعنی وہ مقام بنجر ہونے لگتا ہے، جبکہ وہاں موجود تمام جنگلی حیات کی آبادی تیزی سے کم ہونے لگتی ہے۔

اگلے 100 سال میں جنگلات کا خاتمہ؟

یاد رہے کہ اس وقت ہماری زمین کے 30 فیصد حصے پر جنگلات موجود ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت ایف اے او کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں 1.88 کروڑ رقبے پر موجود جنگلات کو کاٹ دیا جاتا ہے۔

deforestation

ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں موجود گھنے جنگلات جنہیں رین فاریسٹ کہا جاتا ہے، اگلے 100 سال میں مکمل طور پر ختم ہوجائیں گے۔

جنگلات کی کٹائی عالمی حدت میں اضافہ کرنے یعنی گلوبل وارمنگ کو بڑھانے کا بھی ایک اہم سبب ہے جس کے باعث زہریلی گیسیں فضا میں ہی موجود رہ جاتی ہیں اور کسی جگہ کے درجہ حرارت میں اضافہ کرتی ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top