تل ابیب (04 اکتوبر 2025): اسرائیل نے گلوبل فلوٹیلا کے 4 اطالوی ارکان پارلیمنٹ کو ڈی پورٹ کر دیا۔
اسرائیل کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ گلوبل فلوٹیلا کے چار اطالوی ارکان پارلیمنٹ کو ڈی پورٹ کر دیا گیا ہے، چاروں اطالوی پارلیمنٹیرینز اٹلی پہنچ گئے ہیں، فلوٹیلا انتظامیہ کا کہنا ہے کہ رضاکاروں نے احتجاجاً بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔
اسرائیلی پولیس کے مطابق 470 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، وزارت خارجہ نے کہا کہ حکام دیگر افراد کو بھی ملک بدر کرنے کے عمل میں ہیں۔ ان میں سابق سینیٹر مشتاق احمد، گریٹا تھنبرگ اور نیلسن منڈیلا کے پوتے بھی شامل ہیں۔
جمعہ کی صبح اسرائیلی حکام نے گلوبل صمود فلوٹیلا (جی ایس ایف) کی آخری کشتی کو بھی روک لیا تھا، جی ایس ایف نے اسرائیل کی مداخلت کو غیر قانونی قرار دیا جب کہ اسرائیل نے فلوٹیلا کے اقدامات کو اشتعال انگیزی قرار دیا۔ فلوٹیلا کو روکنے سے اٹلی میں عام ہڑتال سمیت دنیا بھر میں مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔
فلوٹیلا کے کارکنوں کو ڈی پورٹ کرنے کے بجائے جیل میں ڈالا جائے، اسرائیلی وزیر
اسرائیل کی حراست میں موجود گلوبل صمود فلوٹیلا کے کارکنوں نے انتہا پسند اسرائیلی وزیر کے سامنے فلسطین کے حق میں نعرے بھی لگائے۔ اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر بن گویر نے قیدی بنائے گئے کارکنوں کو دہشت گرد اور قاتلوں کا حامی قرار دیا، جس کے جواب میں زیرحراست کارکنوں نے ’فری فلسطین‘ کے نعرے لگا کر اسرائیلی وزیر کو آئینہ دکھا دیا۔
بین گویر نے ایکس پر ایک پوسٹ میں شر انگیزی کرتے ہوئے کہا کہ ’’میرے خیال میں انھیں یہاں چند ماہ کے لیے اسرائیلی جیل میں رکھا جانا چاہیے، تاکہ وہ دہشت گرد ونگ کی بو کے عادی ہو جائیں۔ انھیں ان کے ممالک واپس بھیج کر اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو انھیں بار بار واپس آنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔‘‘
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


