ہفتہ, دسمبر 13, 2025
اشتہار

گلوبل صمود فلوٹیلا کے 137 کارکن رہا، اٹلی کے صحافی نے راز افشا کر دیا

اشتہار

حیرت انگیز

انقرہ (05 اکتوبر 2025): اسرائیل نے گلوبل صمود فلوٹیلا کے 137 کارکن رہا کر دیے، جب کہ اٹلی کے صحافی نے اسرائیلی فوج کے بد ترین رویے کے بارے میں بتایا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی قید سے رہا گلوبل صمود فلوٹیلا کے 137 کارکن استنبول پہنچ گئے، جن میں امریکا، برطانیہ، اٹلی، اردن، کویت، لیبیا، الجزائر، موریطانیہ، ملائیشیا، ترکیہ کے شہری شامل ہیں۔ اسرائیل کی قید میں اب بھی سیکڑوں امدادی کارکن موجود ہیں۔

غزہ امدادی فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے کے بعد رہائی پانے والے اطالوی صحافی لورینزو آگسٹینو نے اپنے بیان میں کہا ’’اسرائیلی فورسز نے ہمیں دہشت گردوں کی طرح اغوا کیا، دو دن تک پینے کا پانی نہیں دیا گیا، ہتھکڑیاں اور آنکھوں پر پٹیاں باندھی گئیں۔‘‘

اسرائیلی حراست میں گریٹا تھنبرگ کیساتھ غیر انسانی سلوک کا انکشاف

لورینزو آگسٹینو کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج نے فلوٹیلا کے ارکان کے ساتھ پکڑے جانے کے بعد تضحیک آمیز سلوک کیا، ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی انتہا پسند وزیر بن گویر کی نگرانی میں ان سے دہشت گردوں جیسا سلوک کیا گیا۔

دوسری طرف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ نے بھی کہا ہے کہ اسرائیلی حراست میں ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جا رہا ہے، اور کیڑوں سے متاثرہ ایسے سیل میں رکھا گیا ہے جہاں کھانے اور پانی کی کمی ہے۔ اس بات کا انکشاف اس ای میل سے ہوا ہے جو سویڈن کی وزارت خارجہ نے گریٹا کے قریبی لوگوں کو ارسال کی ہے۔

ادھر اٹلی سے محصور فلسطینیوں کی امداد کے لیے ایک نیا امدادی فافلہ غزہ کی جانب رواں دواں ہے، 10 کشتیوں پر مشتمل فلوٹیلا ’’ضمیر‘‘ نامی جہاز کی قیادت میں اوترانٹو بندرگاہ سے روانہ ہوا، مسافروں نے آزاد فلسطین کے نعرے لگائے، امدادی ارکان کو ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے تربیت بھی دی گئی ہے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں