جمعہ, جولائی 10, 2026
اشتہار

عیدالضحیٰ پر اسٹیٹ بینک کی ’گو کیش لیس‘ مہم کتنی کامیاب رہی؟ نتائج سامنے آگئے

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی (5 جون 2026): اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے عیدالاضحیٰ پر ملک بھر میں ’گو کیش لیس‘ مہم کا آغاز کیا تھا تاکہ ملک بھر کی 123 مویشی منڈیوں میں ڈجیٹل ادائیگیوں کی قبولیت کو فروغ دیا جا سکے، اس مہم کے دوران 34 ارب روپے سے زائد مالیت کی 4 لاکھ 80 ہزار ٹرانزیکشنز کی گئیں۔

2024 اور 2025 میں کیے گئے اسی طرح کے اقدامات کی کامیابی کے بل بوتے پر 2026 میں اس مہم میں خاصی توسیع کی گئی اور اس کا دائرہ کار پاکستان بھر میں 54 مویشی منڈیوں سے بڑھ کر 123 مارکیٹوں تک پھیل گیا۔ ’گو کیش لیس‘ مہم کے تحت 22 شریک بینکوں نے مقررہ مویشی منڈیوں میں خریداروں اور فروخت کاروں کو بلاتعطل ڈجیٹل ٹرانزیکشن سہولت دینے کیلیے خصوصی کیمپ اور کیبن قائم کیے۔

بینکوں نے مویشی بیچنے والوں، ٹرانسپورٹروں اور منسلک خدمات دینے والوں کو فوری بایومیٹرک توثیق کے ذریعے آن بورڈ لیا جن کا انعقاد مارکیٹوں ہی کے اندر کیا گیا، انہیں کیو آر کوڈز فراہم کیے گئے تاکہ وہ ڈجیٹل ادائیگیوں کی وصولی کے قابل ہو سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں مال مویشیوں کی تعداد میں حیران کن اضافہ

مزید برآں، منتخب مویشی منڈیوں میں موبائل بینکاری کی گاڑیاں موجود تھیں جو اے ٹی ایم، کیش کاؤنٹرز اور کیش ڈپازٹ مشینوں (سی ڈی ایم) سے لیس تھیں تاکہ برمقام بینکاری خدمات فراہم کی جا سکیں۔ نقد کاؤنٹرز اور سی ڈی ایم کی دستیابی سے بیوپاریوں کو فاضل نقد رقوم سہولت کے ساتھ بینکاری نظام میں براہ راست جمع کروانے کا موقع ملا جس سے نقد کرنسی کی گردش میں کمی آئی اور ادائیگیوں کا زیادہ ڈجیٹائزڈ ماحول بنانے میں مدد ملی۔

مویشی منڈیوں میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اہلکاروں کو بھی تعینات کیا گیا تھا تاکہ بینکوں اور ان کے عملے کو سہولت دی جا سکے اور اگر کوئی مسئلہ پیدا ہو تو اسے فوراً حل کیا جا سکے۔ بیوپاریوں اور بلند مالیت کے لین دین میں اعانت کیلیے اسٹیٹ بینک نے 14 مئی 2026 تا 5 جون 2026 کی مدت کیلیے ٹرانزیکشنز کی حد میں عارضی اضافہ کیا۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اس مہم کیلیے ایک جامع ملک گیر آگاہی اور رسائی کی مہم شروع کی جس کی تشہیر ٹیلی وژن، ریڈیو، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر کی گئی جبکہ بینکوں کی آگاہی سرگرمیاں بھی اس کا حصہ تھیں۔

اسٹیٹ بینک اور بینکوں کی مشترکہ کاوشوں کے نتیجے میں ڈجیٹل لین دین کے حجم اور مالیت دونوں میں خاصا اضافہ ہوا۔ 2025 کے مقابلے میں 2026 کے دوران ٹرانزیکشنوں کی تعداد 7 گنا سے زیادہ بڑھ گئی اور تقریباً 65 ہزار سے بڑھ کر 4 لاکھ 81 ہزار ٹرانزیکشن تک پہنچ گئی جبکہ لین دین کی جو مالیت گذشتہ سال 4.6 ارب روپے تھی، وہ اس سال بڑھ کر 34 ارب روپے تک جا پہنچی۔

مزید برآں، مہم کے دوران مویشی کے بیوپاریوں اور متعلقہ خدمات فراہم کرنے والوں کے تقریباً 12,500 نئے اکاؤنٹس کھولے گئے، یہ اضافہ ڈجیٹل ادائیگی کے ذرائع پر عوام کے بڑھتے ہوئے اعتماد کا عکاس ہے اور اسٹیٹ بینک کی ان کوششوں کے نتائج کو بھی ظاہر کرتا ہے جو نقد رقم پر انحصار کرنے والے معیشت کے روایتی شعبوں کو ڈجیٹل بنانے کیلیے جاری ہیں۔

اس مہم کی کامیابی نے ڈجیٹل مالی خدمات پر اعتماد کو مزید مستحکم کیا ہے اور پاکستان بھر میں موسمی اور زیادہ حجم والے بازاروں میں محفوظ، موثر اور شمولیتی ڈجیٹل ادائیگی کی سہولتوں کے پائیدار فروغ اور انہیں مستقل طور پر اپنانے کیلیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔

اہم ترین

انجم وہاب
انجم وہاب
انجم وہاب اے آر وائی نیوز سے وابستہ ہیں اور تجارت، صنعت و حرفت اور دیگر کاروباری خبریں دیتے ہیں

مزید خبریں