The news is by your side.

Advertisement

مجرم ہوں تو حکومت الزام لگانے کے بجائے گرفتار کرے: عمران خان

اسلام آباد: تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر میں مجرم ہوں تو مجھے گرفتار کیا جائے، حکومت کا کام الزام لگانا نہیں ہے۔

تفصیلات کے مطابق آج بروز بدھ اسلام آباد میں پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ انسانی تاریخ میں جمہوریت کو اس لیے بہتر نظام قراردیا گیا ہے بادشاہتوںمیں قومیں تنزلی کی شکار ہوجاتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مدینے کی ریاست میں خلیفہ عوام کو جواب دہ ہوتا تھا، کوئی بھی خلیفہ سے حساب طلب کرسکتا تھا لہذا مدینے کی ریاست بہترین جمہوری ریاست تھی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان واحد ملک ہے جو کہ اسلام کےنام پرحاصل کیا گیا ہے لہذا اسے مدینے کے ماڈل کی ریاست بنانا چاہیے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کا کام ہے کہ اگر حکومت عوام کا پیسہ غلط سمت پر استعمال کرتی ہے تواسے روکا جائے اور تنقید کی جائے۔

انہوں نے وزیراعظم کی گزشتہ روز کی تقریر پر نقطہ اعتراز اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’’وزیر اعظم نے کہا کہ میرا محل ہے، وہاں ہیلی کاپٹر آرہے ہیں اورجارہے ہیں بتانا چاہیے کہ یہ پیسہ کہاں سے آرہا ہے‘‘ عمران خان نے مزید کہا کہ ’’ میں کہنا چاہوں گا کہ ایف بی آرسمیت سارے ادارے آپ کے زیراہتمام ہیں اگر میں مجرم ہوں تو گرفتار کیوں نہیں کرتے یہ آپ کا کام ہے‘‘۔

عمران خان نے پارلیمنٹ میں خطاب کے دوران کہا کہ ڈیموکریٹک سوسائٹی میں احتساب ہوتا ہے۔

عمران خان نے یہ بھی کہا کہ ’’حکومتی ارکان شور شرابے کی عادت نہ ڈالیں بصورت دیگر وزیراعظم تو پڑھ کر تقریر مشکل سے کرتے ہیں، اگر یہ روایت پڑ گئی تو ان کے لیے پارلیمنٹ میں بات کرنا مشکل ہوجائے گا‘‘۔

انہوں نے کہا کہ’’ میری سیاست پر میرا احتساب کیا جائے لیکن یہاں ہوا کیا کہ ایک عورت جو لندن سے مسلمان ہوکر یہاں آئی تو اسے اور مجھے یہودیوں کا ایجنٹ کہا گیا۔ شوکت خانم جیسے اسپتال پر الزام لگایا گیا کہ عوام کا پیسہ غلط استعمال ہورہا ہے‘‘۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ایک عالمی انکشاف پر جب میں اپنا کام کرتا ہوں یعنی حکومت سے جواب طلبی تو میری ذات کونشانہ بنایا جاتا ہے ۔ جب دھاندلی کی بات کرتا ہوں تو کہا جاتا ہے کہ جمہوریت ڈی ریل ہورہی ہے‘‘۔

وزیر اعظم کی تقریر پر اعتراضات

عمران خان نے کہا کہ وزیر اعظم نے غلط بیانی کی کہ ان کا پاناما پیپرز سے کوئی تعلق نہیں ۔ مریم نواز ان پر انحصار کرتی ہیں اور مریم نواز کا نام آنے کا مطلب ہے کہ وزیراعظم کا نام آیا ہے‘‘۔

انہوں نے یہ بھی اعتراض کیا کہ’’ وزیر اعظم کہتے ہیں کہ مے فیئر اپارٹمنٹ 2006 کے بعد خریدے جب کہ ان کے پاس 1999میں اپارٹمنٹ خریدنے کے ثبوت موجود ہیں‘‘۔

تحریک انصاف کے سربراہ نے یہ بھی کہا کہ وزیراعظم خود کو کہتے ہیں کہ وہ بہت امیر ہیں تاہم ان سے زیادہ ووٹ تو تحریک انصاف کے ممبران دیتے ہیں۔

وزیراعظم سے ڈیوڈ کیمرون جیسا برتاؤ کرنے کا مطالبہ

عمران خان نے کہا کہ ڈیوڈ کیمرون اسمبلی کے سامنے پیش ہوئے اور سوالات کے جواب دیے، لیکن دوسروں پرالزامات نہیں لگائے۔ ’’ یہ ہوتی ہے جمہوریت‘‘۔

عمران خان نے یہ بھی کہا کہ میں سیاست میں اسی ایک نکاتی ایجنڈے کے تحت آیا تھا کہ ملک سے کرپشن کو جڑ سے ختم کیا جائے جو کہ پاکستان کو اندر سے کھوکھلا کررہا ہے۔

آف شور کمپنی پر عمران خان کی وضاحت

عمران خان نے آف شور کمپنی کے حوالے سے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ میں نے آف شور کمپنی لندن میں فلیٹ خریدنے کے لیے بنائی اور اس کے لیے میرے اکاونٹنٹ نے ہی مشورہ دیا تھا۔ فلیٹ میں نے کبھی نہیں چھپایا اور اسے بیچ کر پیسہ پاکستان لے کر آیا ہوں۔

ان کا کہناتھا کہ میں آج بھی جو پیسے کماتا ہوں اس کا حساب دے سکتا ہوں میری کوئی چیز میرے بچوں کے نام پر نہیں ہے،سب میرےنام پر ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ مجھے شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے جیسے میں کوئی اور وزیرتھا یا میرےپاس کوئی عہدہ تھا۔

عمران خان نے اسپیکر سے درخواست کی کہ جب ٹی او آرز بنائے جائیں تو اس میں شوکت خانم اسپتال کو بھی شامل کیا جائے۔

وزیراعظم نہیں جانتے کہ پینٹ ہاؤس کیا ہوتا ہے؟

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا کہ میں نے ساوتھ کیرولینا کا اپنا اپارٹمنٹ کبھی نہیں چھپایا۔ ’’حد یہ ہے کہ ایک بار میں نے میاں صاحب کو وہاں دعوت دی اور کہا کہ میں نے ایک پینٹ ہاؤ س خریدا ہے۔ انہوں نےمجھ سےسوال کیا کہ پینٹ ہاؤس کیا ہوتا ہے‘‘۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں