کویت سٹی، 16 مارچ: عالمی سطح پر سونے کی قیمت میں ہونے والی تبدیلیوں کے اثرات کویتی مارکیٹ میں بھی دیکھنے میں آئے، جہاں 24 قیراط سونے کی قیمت تقریباً 50 کویتی دینار فی گرام (تقریباً 153 ڈالر) تک پہنچ گئی، جبکہ 22 قیراط سونا تقریباً 45.8 کویتی دینار فی گرام (تقریباً 140 ڈالر) ریکارڈ کیا گیا۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق چاندی کی قیمت کم ہو کر تقریباً 860 کویتی دینار فی کلوگرام (تقریباً 2,810 ڈالر) رہ گئی۔ مقامی مارکیٹ میں سرمایہ کار عالمی حالات اور قیمتی دھاتوں کی طلب اور سرمایہ کاری پر اثرات کا بغور جائزہ لیتے رہے۔
عالمی سطح پر سونے کی قیمت ہفتے کے اختتام پر تقریباً 5,018 ڈالر فی اونس پر بند ہوئی، جبکہ اس دوران قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ یہ اتار چڑھاؤ معاشی عوامل اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث سامنے آیا۔
رپورٹ کے مطابق جمعہ کے روز ٹریڈنگ کے دوران سونے کی قیمت 5,050 ڈالر فی اونس سے نیچے آ گئی، کیونکہ امریکی ڈالر مضبوط ہوا اور امریکی ٹریژری بانڈز کی پیداوار میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں سونا روایتی محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر نسبتاً کم پرکشش ہو گیا، حالانکہ خطے میں جغرافیائی سیاسی خطرات بدستور موجود ہیں۔
یہ کمی اس وقت سامنے آئی جب سرمایہ کاروں نے لیکویڈیٹی کی تلاش میں امریکی ڈالر کی ہولڈنگز بڑھا دیں، خاص طور پر آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکیوں کے بعد عالمی اقتصادی خطرات کا دوبارہ جائزہ لیا جانے لگا۔
جاپان کا اپنے اسٹریٹجک ریزرو سے تیل ریلیز کرنے کا فیصلہ
اگرچہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی عموماً سونے کی قیمتوں کو سہارا دیتی ہے، تاہم خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر جانے سے عالمی سطح پر مہنگائی کے دوبارہ بڑھنے کے خدشات پیدا ہوئے۔ اس صورتحال میں سرمایہ کاروں نے سخت مالیاتی پالیسی کے خدشات کے پیش نظر آمدنی پیدا کرنے والے اثاثوں پر زیادہ توجہ دی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


