گومل یونی ورسٹی میں زیتون کے باغ کا افتتاح -
The news is by your side.

Advertisement

گومل یونی ورسٹی میں زیتون کے باغ کا افتتاح

منصوبہ یونی ورسٹی کو خود کفیل ہونے میں مدد دے گا

ڈی آئی خان: گومل یونیورسٹی میں آٹھ سو کنال پر مشتمل زیتون کے باغ کا افتتاح کردیا گیا، یہ باغ کچھ عرصے میں یونی ورسٹی کو کروڑوں روپے کی آمدن فراہم کرے گا، منصوبے میں محکمہ زراعت کی مدد شاملِ حال ہے۔

تفصیلات کےمطابق ڈیرہ اسمعیل خان میں واقع گومل یونیو رسٹی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد سرور، رجسٹرار دل نواز خان اور ڈائریکٹر زراعت عبدالقیوم خان نے زیتون کے پودے لگاکر باغ کا افتتاح کیا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے گومل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد سرور نے کہا کہ سابق صوبائی وزیر زراعت سردار اکرام اللہ خان گنڈہ پور شہید نے رجسٹرار دل نواز خان کی درخواست پر گومل یونیورسٹی کے لیے زیتون کے باغ کے قیام کا اعلان کیا تھا آج وہ شہادت کے رتبہ پر فائز ہوچکے ہیں مگر ان کی محبت صدقہ جاریہ کی صورت میں شروع ہوگئی ہے۔

گومل یونی ورسٹی

انہوں نے کہا کہ گومل یونیورسٹی میں زیتون کے چار ہزار پودے لگائے جائیں گے ، ماہرین کے مطابق ایک ایکڑ سے 4 سو سے 5سو کلو زیتون کا تیل حاصل کیا جاسکتا ہےجس کا تیل نکالنے کا پلانٹ محکمہ زراعت ڈیرہ اسماعیل خان کے پاس موجود ہے اور یوں مختصر عرصے میں اس منصوبہ سے گومل یونیورسٹی کو کروڑوں کی آمدن ملے گی ۔

انہوں نے کہا کہ زیتون کے تیل کی برآمدگی پر سالانہ کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں، زیتون غذا کے ساتھ ساتھ دوا بھی ہے اور اس کا تذکرہ کلام الٰہی میں موجود ہے ۔انہوں نے کہا کہ گومل یونیورسٹی میں زیتون کا باغ لگانے پر محکمہ زراعت کا شکریہ ادا کرتے ہیں ہم مستقبل میں بھی اسی طرح کے فلاحی منصوبوں پر کام جاری رکھیں گے ۔

وائس چانسلر کا کہنا تھا کہ شہید سردار کرام اللہ اس دنیا میں نہیں ہیں لیکن ان کے خواب کو آج محکمہ زراعت نے عملی جامہ پہنایا۔

تقریب میں گومل یونیورسٹی کے ڈین فیکلٹی آف سائنسز پروفیسر ڈاکٹر حلیم شاہ، ڈائریکٹر گریجویٹ سٹڈیز اینڈ ریسرچ پروفیسر ڈاکٹر شادی اللہ خان، ڈائریکٹر فاصلاتی نظام تعلیم ڈاکٹر محمدصدیق، ڈائریکٹر کوالٹی انہاسمنٹ سیل ڈاکٹر نعمان رحیم، ڈائر یکٹر فنانس اقبال اعوان، ڈپٹی رجسٹرار ریاض بیٹنی، ڈپٹی رجسٹرار عصمت اللہ خان،ڈپٹی ڈائریکٹر وسیم خان کٹی خیل کے علاوہ تدریسی و انتظامی شعبہ جات کے افسران بھی موجود تھے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں