The news is by your side.

Advertisement

ملک میں وینٹی لیٹرز سے متعلق خوش خبری

اسلام آباد: نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے کہا ہے کہ ملک میں کرونا وائرس انفیکشن کے تشویش ناک مریضوں کے لیے وینٹی لیٹرز دستیاب ہیں۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق این سی او سی نے ملک بھر میں اس وقت موجود وینٹی لیٹرز کے حوالے سے اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا کہ کرونا مریضوں کے لیے مختلف شہروں میں مجموعی طور پر 1539 وینٹی لیٹرز دستیاب ہیں۔

ادارے نے یہ بھی کہا کہ ملک بھر میں تا حال صرف 549 وینٹی لیٹرز زیر استعمال ہیں، جس کا مطلب ہے کہ کرونا کے وہ مریض جن کی حالت تشویش ناک ہے اور جنھیں سانس لینے میں تکلیف کا سامنا ہے، ان کے لیے 990 وینٹی لیٹرز موجود ہیں۔

این سی او سی نے یہ خوش خبری بھی دی کہ آئندہ ماہ کے اختتام تک ملک بھر میں مزید 1895 وینٹی لیٹرز دستیاب ہوں گے۔

کراچی: اسپتالوں میں کرونا مریضوں کے لیے 15 وینٹی لیٹرز خالی رہ گئے

ادارے کا کہنا تھا کہ 200 آکسیجن بیڈز گلگت بلتستان روانہ کیے جا چکے ہیں، جب کہ اسلام آباد میں انفیکشس ڈیزیز اسپتال جلد فعال کر دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ آج نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے اپنی ویب سائٹ پر تشویش ناک مریضوں سے متعلق اپ ڈیٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں کرونا کے تشویش ناک مریضوں کی تعداد 3,337 ہو گئی ہے۔

دوسری طرف پاکستان میں کرونا وائرس انفیکشن سے ہلاکتوں میں کمی آ گئی ہے، گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ملک میں 3,892 نئے کیسز سامنے آئے، جب کہ مزید 60 مریض جاں بحق ہوئے۔

پاکستان میں کرونا سے ہلاکتوں میں کمی آ گئی، گزشتہ 24 گھنٹوں میں 60 افراد کا انتقال

یاد رہے کہ چند دن قبل سندھ کے محکمہ صحت نے اپنے اعداد و شمار میں کہا تھا کہ کراچی کے سرکاری و نجی اسپتالوں میں کرونا وائرس کے مریضوں کے لیے صرف 15 وینٹی لیٹرز خالی رہ گئے ہیں۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو ایکسیڈنٹ اینڈ ٹراما سینٹر میں کرونا وائرس کے مریضوں کے لیے مختص تمام 26 وینٹی لیٹرز اور جناح اسپتال کراچی میں تمام 24 وینٹی لیٹرز بھر گئے ہیں۔

ایس آئی یو ٹی میں تمام 20، او ایم آئی اسپتال میں تمام 6، لیاقت نیشنل اسپتال میں تمام 14، پٹیل اسپتال میں تمام 7، التمش اسپتال میں تمام 7، انڈس اسپتال میں تمام 15، ڈاکٹر ضیاء الدین اسپتال کلفٹن میں تمام 4، ڈاکٹر ضیاء الدین اسپتال نارتھ ناظم آباد میں تمام 13 اور آغا خان یونی ورسٹی اسپتال میں تمام 17 وینٹی لیٹرز مریضوں سے بھر گئے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں