The news is by your side.

Advertisement

سائنو ویک لگوانے والوں کے لیے خوشخبری، نئی تحقیق

ایک نئی تحقیق میں ثابت ہوا ہے کہ سائنوویک ویکسین استعمال کرنے والے افراد میں دیگر کمپنیوں کے بوسٹر ڈوز اومیکرون سے زیادہ تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

برطانیہ اور برازیل کی مشترکہ طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ سائنوویک بائیوٹیک لمیٹیڈ کی تیار کردہ کووڈ 19 ویکسین کی 2 خوراکیں استعمال کرنے والے افراد اگر بوسٹر ڈوز کے لیے کسی مختلف کمپنی کا انتخاب کریں تو انہیں کورونا کی نئی قسم اومیکرون سے زیادہ تحفظ ملتا ہے۔

اس تحقیق میں سائنو ویک کی 2 خوراکیں استعمال کرنے والے 18 سال سے زائد عمر کے 1240 ان افراد پر جنہیں ویکسینیشن کرائے 6 ماہ سے زائد عرصہ ہوچکا تھا کو مختلف کمپنیوں کی ویکسینز کے بوسٹر ڈوز کے امتزاج کی آزمائش کی گئی۔

تحقیق میں جن افراد کو سائنوویک کی تیسری خوراک بوسٹر ڈوز کے طور پر استعمال کرائی گئی تو 28 دن بعد اینٹی باڈیز کی سطح بلند تو ہوئی مگر دیگر افراد کو فائزر، بائیو این ٹیک، ایسٹرازینیکا یا جانسن اینڈ جانسن ویکسین کا بوسٹر ڈوز لگایا گیا تو انمیں اومیکرون سے زیادہ ٹھوس تحفظ ملا۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ سائنو ویک ویکسین کی 2 خوراکوں کے استعمال کے 6 ماہ بعد فائزر ویکسین کے بوسٹر ڈوز سے اینٹی باڈیز کی سطح میں152 گنا اضافہ ہوا جو دیگر کے مقابلے میں سب سے زیادہ تھا جب کہ سائنو ویک ویکسین کی تیسری خوراک کے استعمال سے اینٹی باڈیز کی سطح میں 12 گنا اضافہ ہوا۔

تحقیق کے نتائج کے تجزیے کے بعد محققین کا کہنا ہے کہ اس ڈیٹا سے غریب اور متوسط آمدنی والے ممالک کو رہنمائی مل سکے گی کہ وہ کس زیادہ بہتر اور کم قیمت بوسٹر پروگرامز پر عمل کرسکتے ہیں

تحقیقی نتائج میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سائنو ویک استعمال کرنے والے افراد میں ایسٹرازینیکا، فائزر یا جانسن اینڈ جانسن کے بوسٹر ڈوز سے اومیکرون کو ناکارہ بنانے کی صلاحیت پیدا ہوئی جب کہ سائنو ویک کی تیسری خوراک استعمال کرنے والے ایک تہائی افراد میں یہ صلاحیت پائی گئی۔

تحقیق میں یہ بھی پتہ چلا کہ سائنو ویک ویکسین کی 2خوراکوں کے استعمال کے بعد تمام بوسٹر ڈوز محفوظ ثابت ہوئے صرف 3 افراد کو سنگین مضر اثرات کا سامنا کرنا پڑا لیکن وہ بھی مکمل صحتیاب ہوگئے، تحقیق میں ٹی سیل امیونٹی کی جانچ پڑتال نہیں کی گئی تھی جو بیماری کی سنگین شدت سے تحفظ کا عندیہ دیتی اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے دی لائسیٹ میں شائع ہوئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں