The news is by your side.

Advertisement

کرونا سے صحت یاب افراد کے لیے اچھی خبر

ماہرین نے کروناوائرس سے صحت یاب افراد کے حوالے سے نئی تحقیق میں دریافت کیا کہ مریضوں میں مہلک وائرس کو دوبارہ روکنے کے لیے مدافعتی نظام کئی سال بلکہ دہائیوں تک مستحکم رہ سکتا ہے۔

طب کی دنیا میں مختلف تحقیقی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کرونا سے صحت یاب افراد پر دوبارہ مہلک وائرس کے حملے کے امکانات ہوتے ہیں لیکن حالیہ تحقیق کے مطابق صحت یاب مریضوں میں وبا کو روکنے کے لیے مدافعی نظام کا دورانیہ کئی سال بلکہ دہائیوں تک محیط ہوسکتا ہے۔

یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — رائٹرز فوٹو

نئی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مہک وائرس کو شکست دینے کے بعد مریضوں میں مدافعتی خلیات اتنے مہینوں تک رہتے ہیں کہ وہ دوبارہ کرونا کو روک اور ناکارہ بنا سکیں، خلیات میں کمی کی سست رفتار شرح سے عندیہ ملتا ہے کہ ان کا تسلسل جسم میں بہت طویل وقت تک برقرار رہ سکتا ہے۔

ماہرین نے اس ریسرچ کے لیے 19 سے 81 سال کی عمر کے 185 افراد کو شامل کیا جو کووڈ 19 کو شکست دے چکے تھے، ان میں اکثریت میں کرونا کی شدت معتدل تھی اور اسپتال میں داخلے کی ضرورت نہیں پڑی تھی۔

محققین نے خون کے نمونوں کے ذریعے مدافعتی نظام کے 4 شعبوں اینٹی باڈیز، بیلز اور 2 اقسام کے ٹی سیلز کو ٹریک کیا، تاکہ مدافعتی ردعمل کی مکمل تصویر کو تیار کیا جاسکے جس سے دریافت ہوا کہ مدافعتی نظام کئی مہینوں بلکہ سالوں تک متحرک اور مستحکم رہتا ہے اور اس سے وائرس کے خلاف تحفظ ملتا ہے۔

تحقیق سے پتا چلا کہ صحت یاب مریضوں میں اینٹی باڈیز پائیدار ہوتی ہیں اور بیماری کے 6 سے 8 ماہ کے دوران معتدل کمی آتی ہے، مگر ٹی سیلز کی شرح میحں یہ کمی بہت معمولی ہوتی ہے، جبکہ بی سیلز کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو کروناوائرس کے خلاف ایک خوش آئند امر ہے۔

اس ریسرچ میں شامل محققین کا کہنا ہے کہ کرونا کے شکار مریضوں میں مدافعتی نظام کی مختصر مدت ایک تشویش ناک معاملہ ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ ویکسین کے ذریعے نظام مستحکم رکھا جاسکے لیکن اگر مریض صحت یاب ہوجائے تو مدافعتی نظام ازخود ایک طویل مدت تک قائم رہتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں