The news is by your side.

Advertisement

برطانیہ میں غیرملکی طالب علموں کیلئے بڑی خوشخبری

حکومت نے بعداز تعلیم ملازمت کی اجازت بحال کردی

لندن :برطانیہ کی حکومت نے بعد از بریگزٹ (یورپی یونین سے علیحدگی) امیگریشن پالیسی کا اعلان کردیا ہے جس کے تحت غیرملکی طلبہ کو گریجویشن مکمل کرنے کے بعد 2 سال تک ملازمت کی اجازت ہوگی۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سیکریٹری تجارت اینڈریا لیڈسن نے کہا کہ مذکورہ تبدیلی کا مقصد دنیا بھر سے شان دار تعلیمی کارکردگی کے حامل طلبہ کی پذیرائی اور یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد برطانیہ کی ترجیحات کی ایک علامت ہے۔

انہوں نے کہا کہ یورپی یونین سے طلبہ کی آزادانہ آمد و رفت کے بجائے، برطانیہ غیرملکی طلبہ کی موجودگی سے فائدہ اٹھائے گا اور یقیناً یہ ہمارے لیے خوش آئند ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ برطانوی حکومت سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور  ریاضی میں غیر ملکی طلبہ کی تعداد میں 2030 تک 30 فیصد اضافہ چاہتی ہے جو کم از کم 6 لاکھ بنتے ہیں۔

لیڈسن نے کہا کہ گریجویشن کے بعد 2 سال تک ملازمت کرنے سے طلبہ کی ڈگری کی اہمیت بڑھے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ نئی صلاحیت اور نئی صنعتیں ابھر رہی ہیں اور ہماری کوشش ہوگی کہ غیرملکی طلبہ کو موقع فراہم کریں،امیگریشن واچ برطانیہ‘ کے چیئرمین ایلپ مہمٹ نے حکومتی فیصلے کی مخالفت کی اور کہا کہ مذکورہ فیصلہ ’غیرشعوری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے ماضی کی طرح غیرملکی طلبہ دوبارہ گریجویشن کرنے کے بعد سکونت اختیار کرلیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری جامعات غیرملکی طلبہ کے لیے پہلے ہی توجہ کا مرکز ہیں تاہم بیک ڈور سے کام کرنے کی اجازت دے کر تعلیمی ویزے کی اہمیت کو کم نہ کیا جائے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں