کراچی (13 اگست 2026): گڈز ٹرانسپورٹرز کی ملک گیر پہیہ جام ہڑتال پانچویں روز میں داخل ہو گئی ہے، ہڑتال کے باعث برآمدی سپلائی چین، صنعتی پیداوار اور زرمبادلہ کے حصول کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
صنعت کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ہڑتال مزید طول پکڑتی ہے تو برآمدی سودے متاثر ہو سکتے ہیں۔ ملک بھر میں گڈز ٹرانسپورٹرز کے پہیہ جام کے باعث بندرگاہوں، صنعتوں اور برآمدی سپلائی چین پر دباوٴ بڑھنے لگا ہے۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض کے مطابق ہڑتال سے صنعتی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں، برآمدی کارگو کی بر وقت ترسیل نہ ہونے سے عالمی خریدار آرڈرز مؤخر کر سکتے ہیں، کنٹینرز جہازوں پر لوڈ نہ ہونے سے ڈیٹینشن، ڈیمریج اور اسٹوریج اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
شوگر انڈسٹری کا حکومت سے سرپلس چینی فوری برآمد کرنے کا مطالبہ
ٹرانسپورٹرز اپنے مطالبات پر بدستور ڈٹے ہوئے ہیں۔ ٹرانسپورٹرز رہنما ملک شہزاد اعوان کا کہنا ہے کہ حکومت سے مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں اور حکومتی یقین دہانیوں پر اعتماد نہیں کیا جائے گا۔ اویس چوہدری نے واضح کیا ہے کہ نوٹیفکیشن جاری ہونے تک ہڑتال ختم نہیں ہوگی۔
پی ایچ ایم اے کے مطابق پاکستان روزانہ تقریباً 26 ارب 36 کروڑ روپے کی برآمدات کر رہا ہے۔


