site
stats
بزنس

گڈز ٹرانسپورٹرز کے حکومت سے مذاکرات ناکام، ہڑتال بدستور جاری

کراچی: صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں گڈز ٹرانسپورٹرز کے حکومت سے مذاکرات ناکام ہوگئے جس کے بعد ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال طول پکڑ گئی۔ ہڑتال کے باعث کروڑوں روپے کا نقصان ہوچکا ہے۔ بندرگاہ پر کنٹینر رکھنے کی گنجائش بھی ختم ہوگئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق گورنر سندھ محمد زبیر اور گڈز ٹرانسپورٹرز کے درمیان ہڑتال کے خاتمے کے لیے کیے جانے والے مذاکرات کا دوسرا دور بھی ناکام ہوگیا۔

گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے صدر نور خان نیازی نے ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ راستہ ملنے تک کام شروع نہیں کریں گے۔

کراچی کی بندرگاہ پر کنٹینرز کے ڈھیر لگ گئے ہیں۔ سامان رکھنے کی اضافی گنجائش بھی ختم ہوگئی ہے جس کے بعد پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار مال بردار جہازوں کو لنگر انداز ہونے اور کنٹینر اتارنے سے منع کردیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: گورنر کی یقین دہانی کے باوجود گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال

پورٹ قاسم نے الرٹ جاری کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

ذرائع کے مطابق صنعتکاروں نے کارخانے بند کرنے پر غور شروع کردیا ہے جس کے بعد غذائی قلت کی تلوار بھی سر پر لٹکنے لگی ہے۔

پاکستان اپیرل فورم کے چیئرمین جاوید بلوانی کا کہنا ہے کہ ہڑتال کی وجہ سے روزانہ 6 ارب روپے کی ایکسپورٹ متاثر ہو رہی ہے۔ 45 ارب مالیت کے کنٹینرز کراچی بندرگاہ تک نہ پہنچ سکے۔

رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے رہنما محمود مولوی نے کہا کہ برآمدات درآمدات رک گئی ہیں۔ چاول کے برآمدی آرڈر منسوخ ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ چاول برآمد کنندگان کو 4 ارب روپے کا نقصان ہوچکا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ہڑتال ختم ہونے کی صورت میں بھی بندرگاہ پر مال کلیئر کرنے میں 1 ماہ لگے گا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top