گوگل میپ میں دو اہم فیچرز شامل -
The news is by your side.

Advertisement

گوگل میپ میں دو اہم فیچرز شامل

کیلی فورنیا: انٹرنیٹ کی سب سے بڑی کمپنی گوگل نے اپنی میپ ایپلیکشن میں مزید فیچرز شامل کرلیے جن میں گاڑی کی رفتار کی آگاہی بھی دی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق گوگل کی جانب سے 8 برس قبل ’میپ‘ کی سہولت متعارف کرائی گئی تھی جو صارفین کو راستوں اور مقامات کے حوالے سے مدد فراہم کرتا ہے۔

گوگل میپ کی سروس ابتدائی ایام میں صرف امریکا اور برطانیہ میں متعارف کرائی گئی تھی تاہم کمپنی نے اس کا دائرہ کار پوری دنیا تک پھیلایا اور آج یہ ہر ملک میں استعمال کی جارہی ہے۔

گوگل میپ میں سفر کے دورانیے اور راستے کی معلومات سے متعلق فیچرز پہلے سے بھی دستیاب ہیں مگر اب کمپنی نے نئے اضافی فیچرز بھی شامل کردیئے جو صارفین کو گاڑی چلانے کی رفتار سے آگاہ کرے گا۔

مزید پڑھیں: پاکستانی نوجوان کا کاررنامہ، میٹرو بس کا روٹ اور ٹائمنگ گوگل میپ میں‌ شامل

رپورٹ کے مطابق گوگل اسپیڈ فیچر کا تجربہ اینڈرائیڈ پولیس نے کیا جس میں گاڑی کی کم ازکم اور زیادہ سے زیادہ رفتار جبکہ اسپیڈ ٹریپ کی بھی آزمائش کی گئی۔

گوگل میپ استعمال کرنے والے صارفین ہدایت موصول ہوتی رہے گی کہ انہیں سڑک ، شاہراہ یا موٹروے پر کتنی رفتار سے گاڑی چلانی ہے اور وہ اس وقت کس اسپیڈ سے گاڑی چلا رہے ہیں۔ گوگل صارف کو فیچر کی مدد سے آڈیو کے ذریعے احتیاطی تدابیر کی ہدایت بھی فراہم کی جائیں گی۔

اسپیڈ ٹریپ فیچر شاہراؤں پر نصب کیمروں کے حوالے سے بھی صارف کو آگاہ کرے گا تاکہ گاڑی کی رفتار کو آہستہ کیا جاسکے۔ گوگل ترجمان کے مطابق دونوں فیچر کے متعارف ہونے سے حادثات میں کمی ہوجائے گی۔

گوگل کے دونوں فیچرز فی الحال سان فرانسسکو، امریکا اور برطانیہ میں متعارف کرائے گئے البتہ جلد ہی ان سے تمام صارفین استفادہ کرسکیں گے۔

گوگل میپ کا استعمال

گوگل میپ کے ذریعےکسی بھی جگہ کی ٹھیک ٹھیک نشاندہی کی جاسکتی ہے، اگر آپ کسی ایڈریس سمجھانا چاہتے ہیں تو گوگل میپ سے متعلقہ جگہ کا لنک لے کر اُسے ارسال کردیں۔ اس کا طریقہ کار بہت ہی آسان ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان ڈیجیٹل ملک کے طور پر دنیا میں‌ تیزی سے ابھر رہا ہے، گوگل

اسی طرح آپ کسی ایڈریس پر جانا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنے موبائل کو انٹرنیٹ سے منسلک کریں اور پھر لوکیشن آن کر کے نظر آنے والی بار میں ایڈریس درج کردیں، راستے میں آنے والے موڑ، و دیگر چیزوں کی گوگل خود نشاندہی کرے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں