site
stats
سائنس اور ٹیکنالوجی

جعلی خبروں سے بچنے کے لیے گوگل کا اہم فیصلہ

کیلیفورنیا: انٹرنیٹ کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل نے اپنے پہلے صفحہ پر سے ’ان دا نیوز‘ یعنی خبروں کا صفحہ بدلنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ فیس بک کے خلاف اٹھنے والے اس تنازعہ کے بعد کیا جارہا ہے جس میں الزام لگایا گیا کہ فیس بک پر دکھائی جانے والی خبریں امریکی صدارتی انتخاب کے نتائج پر اثر انداز ہوئیں۔

اس کے بعد گوگل نے بھی حفظ ماتقدم کے طور پر اس قسم کے کسی تنازعہ سے بچنے کے لیے اس اقدام کا افیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کے تحت گوگل پر خبروں کی تلاش کے لیے ترتیب دیے گئے صفحہ ’ان دا نیوز‘ کا نام بدل کر ٹاپ اسٹوریز کر دیا جائے گا۔

google-post-1

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر یہ اقدام نافذ العمل کردیا جاتا ہے تو اس کے بعد گوگل اس سے بری الذمہ ہوجائے گا کہ اس پر تلاش کی جانے والی خبریں درست ہیں یا غلط۔

مزید پڑھیں: گوگل اہم بھارتی مسئلے کو حل کرنے کے لیے سرگرم

گو کہ ابھی گوگل کے خبروں کے صفحہ پر دکھائی جانے والی خبروں کو مانیٹر کرنے کے لیے باقاعدہ ٹیم موجود ہے لیکن بہر حال انسانی غلطی کا امکان ہر وقت موجود رہتا ہے، اور اسی کی ذمہ داری سے بچنے کے لیے گوگل یہ قدم اٹھا رہا ہے۔

گوگل انتظامیہ نے تاحال اس خبر کی تصدیق یا باقاعدہ اعلان نہیں کیا۔

مزید پڑھیں: گوگل کے ملازم دفتر میں کیا کھاتے ہیں؟

واضح رہے کہ امریکی صدارتی انتخاب کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ اس پر ٹرمپ سے متعلق جعلی خبریں پھیلائی گئیں۔ یہی نہیں صدارتی مہم کے دوران بھی کہا جاتا رہا کہ فیس بک انتظامیہ ہیلری کلنٹن کی حمایت میں جانبدار خبروں کو پھیلا رہی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top