ساتھیوں پر ہراساں کرنے کا الزام، گوگل ملازمین کا کمپنی کے خلاف دنیا بھر میں احتجاج -
The news is by your side.

Advertisement

ساتھیوں پر ہراساں کرنے کا الزام، گوگل ملازمین کا کمپنی کے خلاف دنیا بھر میں احتجاج

سان فرانسسکو: گوگل کے ملازمین نے جنسی ہراسانی کے الزامات کی وجہ سے برطرف کیے جانے والے افراد کی ملازمتیں بحال نہ کرنے کی صورت میں استعفیٰ دینے کی دھمکی دے دی۔

تفصیلات کے مطابق گوگل کے دنیا بھر میں موجود انجینئرز اور دیگر ملازمین نے جمعرات کے روز کمپنی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں کی بحالی کا مطالبہ کیا۔

ٹوکیو ، سنگاپور، امریکا ، لندن میں ہونے والے مظاہروں میں کمپنی کی جانب سے جنسی ہراسانی کے الزامات پر نکالے جانے والے ملازمین سے یکجہتی کا اظہار بھی کیا گیا اور مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ بے بنیاد الزامات کی وجہ سے کسی کے روزگار سے کھلواڑ نہ کیا جائے۔

ڈبلن میں سیکڑوں خواتین اور مرد ملازمین سڑکوں پر آئے اور انہوں نے کمپنی کی عدم مساوات کی پالیسی پر شدید تنقید کی، مظاہرین نے دفتر کے مرکزی دروازے کے باہر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔

مزید پڑھیں: امریکا: جنسی ہراسگی کا الزام، گوگل نے درجنوں ملازمین برطرف کردئیے

مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ کمپنی کی پالیسی کی وجہ سے مردوں اور خواتین کو مستقبل میں مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کاروبار، ملازمت کے دوران اس طرح کے واقعات رونما ہوسکتے ہیں مگر ہمارے شعبے میں کام کرنے والے افراد کسی ساتھی خاتون کو ہراساں نہیں کرسکتے کیونکہ یہ بہت بڑا پلیٹ فارم ہے جہاں آواز اٹھائی جاسکتی ہے۔

ملازمین نے امریکی اخبار میں شائع ہونے والی خبر پر بھی احتجاج کیا جس میں گوگل اینڈرائیڈ سافٹ ویئر بنانے والے انجینئر اینڈی رابن پر جنسی ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

گوگل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سندر پچائی نے ای میل کے ذریعے برطرف کیے جانے والے ملازمین سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ’مجھے معلوم ہے ایک ای میل کی وجہ سے آپ کی دل آزاری ہوئی ہوگی اور یقینی طور پر شدید غصہ بھی آیا ہوگا، مگر میں اس معاملے پر اعلیٰ حکام کے ساتھ رابطے میں ہوں اور ہم چاہتے ہیں کہ دفتر میں ایسا ماحول فراہم کریں جو ہمارے معاشرے کی عکاسی کرتا ہے’۔

 یاد رہے کہ گوگل نے 25 اور 26 اکتوبر کے روز دنیا بھر میں کام کرنے والے 24 ملازمین کو جنسی ہراسانی کا الزام عائد ہونے کے بعد نوکریوں سے برطرف کردیا تھا، اس حوالے سے اُن سے کوئی وضاحت بھی طلب نہیں کی گئی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں