ہفتہ, مارچ 14, 2026
اشتہار

وہ ہندو اہلِ قلم جو مسلمان سلاطین کے دربار سے فیض یاب ہوئے

اشتہار

حیرت انگیز

قدیم روایات کے مطابق دربار و محفل میں شاعروں کی موجودگی شائستگی اور تہذیب کا لازمہ سمجھی جاتی تھی۔ ہندو راجگان کو مسلمانوں کی اور مسلمان امراء و سلاطین کو ہندوؤں کی سرپرستی کرنے میں کوئی عار نہ تھا۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے سرمایۂ فخر تھے۔

اردو ادب میں اس کی مثالیں بکثرت ملتی ہیں۔ اردو کے ان بے شمار ہندو شاعروں میں سے جو مسلمان نوابوں یا رئیسوں کے ساتھ وابستہ رہے، کچھ کے نام یہ ہیں:

(۱) منشی جسونت رائے
منشی اورنگ آباد کے گورنر دکن سعادت یار خاں کے دربار میں معزز عہدہ رکھتے تھے۔

(۲) ولی رام ولی
اردو کے اوّلین ہندو شاعر شاہزادہ دارا شکوہ کے مشیر خاص تھے۔

(۳) آنند رام مخلص
عہدِ محمد شاہی میں عماد الدّولہ کے وکیل تھے۔

(۴) راجہ بینی بہادر
عالم گیر ثانی کے عہد میں صوبہ دار بہار و اڑیسہ تھے۔

(۵) راجہ گوپال ناتھ
شاہ عالم بادشاہ کے مقرب تھے اور اس رعایت سے غلام تخلص کرتے تھے۔

(۶) مول چند منشی
مول چند منشی بھی دربار شاہ عالم سے وابستہ تھے۔

(۷) مرزا حیدر ناتھ بہادر تخلص نسیم
دربارِ دہلی میں ناظر شاہی کے عہدے پر ممتاز تھے اور ان کا شمار شاہی عزیزوں میں ہوتا تھا۔

(۸) ہری رام جودت مرشد آبادی
نواب علاؤ الدین کی سرکار میں توسل رکھتے تھے۔

(۹) راجہ نول رائے وفا
نواب صفدر جنگ کے نائب تھے اور روہیلوں کی لڑائی میں جاں بحق ہوئے۔

(۱۰) راجہ بینی بہادر
بہادر تخلّص، نائبِ نواب شجاع الدّولہ تھے۔

(۱۱) راجہ جسونت سنگھ پروانہ
شجاع الدّولہ کے دیوان تھے۔

(۱۲) صاحب رائے صاحب
آصف الدّولہ کے درباری شاعر تھے۔

(۱۳) طوطا رام شایاں
نواب سعادت علی خاں کے دورِ حکومت میں بعہدہ بخشی گیری پر فائز تھے۔

(۱۴) جیا لال بہادر
محمد علی فرماں روائے اودھ کے عہدِ حکومت میں بعہدہ سر دفتر محکمہ خاص سلطانی پر ممتاز تھے۔

(۱۵) شیو پرشاد ثاقب
ان کا شمار واجد علی شاہ کے مصاحبین میں ہوتا تھا۔

(۱۶) منشی دولت رائے شوق
واجد علی شاہ کے اُن مصاحبین خاص سے تھے جو بادشاہ کے ساتھ مٹیا برج کلکتہ تک گئے۔

(۱۸) منشی رام پرشاد
پرشاد مدار الہام نواب محسن الدّولہ رئیس لکھنؤ کے تھے۔ امام باڑہ حسین آباد کا انتظام ہمیشہ ان کے ہی پاس رہتا تھا۔

(۱۹) اجودھیا پرشاد سحر
اعتماد الدّولہ میر فضل علی خاں کے دیوان تھے۔

(۲۰) بخشی بھولا ناتھ عاشق
سرکار محمد الدّولہ کے دیوان تھے۔

(۲۱) نند لال فدائی
نواب ضابطہ خاں سے وابستہ رہے۔

(۲۲) فوجی رام فوجی
جن سے اردو کے سات دیوان یادگار ہیں، نواب حسین علی خاں کے ملازم تھے۔

(۲۳) راجہ ہلاس رائے مہاراج
دیوان نواب رحمت خاں تھے۔

(۲۴) دیبی پرشاد بشاش، (۲۵) لالہ منا لال مشتاق، (۲۶) منشی مہتن لال بہجت اور (۲۷) بساون لال شاداں ریاست ٹونک سے وابستہ رہے۔ (۲۸) رام سہائے تمنا، (۲۹) مہاراجہ چندو لال شاداں اور (۳۰) مہاراجہ گردھاری پرشاد باقی دولت عثمانیہ کے خیر خواہوں میں سے تھے۔

ایسے ہی تحقیق کرنے سے کئی ایسے ہندو مربیوں کے نام بھی پیش کیے جا سکتے ہیں جن کی دولت و شفقت سے مسلمان اہلِ قلم فیض یاب ہوتے رہے۔ میر تقی میر جیسے آشفتہ مزاج اور نازک دماغ کی دست گیری اور ناز برداری جن چند ہندو رئیسوں نے کی، ان کے نام یہ ہیں مہانرائن دیوان، (۲) راجہ جگل کشور، (۳) راجہ ناگر مل، (۴) بہادر سنگھ اور (۵) رائے بشن سنگھ۔

رجب علی بیگ سرور، مہاراجہ ایشری پرشاد، نرائن سنگھ والی بنارس و مہاراجہ پٹیالہ والور کے خوشہ چیں رہے۔ مرزا داغ، راجہ ہر کشن سنگھ بیدار کے ہاں کشن کوٹ ضلع گورداس پور تشریف لے جایا کرتے تھے۔ اردو ادب میں ایسی مثالیں اس کثرت سے پائی جاتی ہیں کہ یہ موضوع بجائے خود ایک الگ مقالہ کا محتاج ہے۔

(ممتاز ادبی نقاد، محقق، ماہر لسانیات گوپی چند نارنگ کے مقالے سے اقتباسات)

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں