The news is by your side.

Advertisement

طالب اور موہنی نے کنوئیں میں کود کر جان دے دی!

تاریخ میں طالب اور موہنی نامی دو کرداروں کا تذکرہ بھی ملتا ہے جن کے عشق کی داستان کو اردو ادب میں‌ بھی جگہ دی گئی ہے. ایک دکھنی شاعر سید محمد والہؔ موسوی نے اس قصے کو نظم کیا ہے۔ اس مثنوی کا ایک نسخہ انڈیا آفس لندن میں محفوظ ہے اور ایک ادارۂ ادبیات اُردو کے کتب خانہ میں دست یاب ہے۔

سید محمد والہ، سید محمد باقر خراسانی کے فرزند تھے۔ عالم شباب میں لاہور اور وہاں سے دہلی آئے۔ 1724 میں دہلی سے نظام الملک آصف جاہ کے ساتھ دکن چلے آئے۔ مختلف عہدوں اور ذمہ داریوں پر مامور رہے۔ ان کی وفات 1769 میں ہوئی۔ فارسی کے صاحبِ دیوان تھے۔ سید محی الدین قادری زورؔ نے مثنوی طالب و موہنی کے علاوہ ان کی دس دیگر تصانیف کی نشان دہی کی ہے۔

والہؔ جس زمانے میں دکن میں وارد ہوئے ابنِ نشاطی کی مثنوی پھولبن کا بڑا شہرہ تھا۔ یہ مثنوی انھیں پسند نہ آئی اور اسی کے جواب میں انھوں نے طالب و موہنی کا قصہ نظم کیا۔ مشہور ادیب، محقق اور نقاد گوپی چند نارنگ نے ان کا ذکر اپنی کتاب ‘‘ہندوستانی قصوں سے ماخوذ اردو مثنویاں’’ میں کیا ہے۔

اورنگ آباد اور احمد نگر کے جنوب میں موجودہ عثمان آباد کے قریب قلعہ پرینڈہ ایک تاریخی مقام ہے۔ وہاں ایک بوڑھے برہمن نے والہ کو طالب اور موہنی کی داستانِ عشق سنائی۔ والہ کے دل پر اس کا گہرا اثر ہوا اور انھوں نے اسے مثنوی میں بیان کر دیا۔ یہ قصّہ کچھ اس طرح بیان کیا جاتا ہے۔

طالب نامی ایک مسلمان نوجوان نے مہاجن کی لڑکی موہنی کو پنگھٹ پر پانی بھرتے دیکھا اور اس پر شیدا و مفتوں ہوگیا۔ اس نے موہنی کا تعاقب کیا اور گھر دیکھ لیا۔ کہتے ہیں کہ وہ مہاجن کے گھر کے سامنے ہی بیٹھا رہتا۔ سب کو اس کی حالت کا علم ہو چکا تھا۔ طالب نے کھانا پینا بند کردیا اور ہر طرف اس کے عشق و جنون کا چرچا ہونے لگا۔ کھانا پینا بند کرنے سے اس کی حالت غیر ہونے لگی تو مہاجن ڈر گیا کہ خون ناحق اس کے سَر نہ جائے، اس نے طالب کو کھانا پیش کیا، مگر اس نے انکار کردیا۔ آخر لوگوں کے کہنے سننے پر مہاجن نے موہنی کے ہاتھ کھانا بھیجا جو طالب نے قبول کرلیا۔

بات بڑھتے بڑھتے شہر کے منصف تک پہنچی، مگر وہ بھی اس سلسلے میں کوئی فیصلہ نہ کرسکا۔ آخر مہاجن نے ایک چال چلی اور خبر اُڑائی کہ موہنی بیمار ہے۔ کچھ روز بعد مشہور کردیا کہ موہنی مر گئی ہے اور اس کا جنازہ اٹھایا گیا۔

طالب پر قیامت ہی ٹوٹ پڑی۔ وہ ماتم کرتا ہوا جنازے میں شریک تھا۔ موہنی کے عزیز و اقربا نے اس پر لعنت ملامت کی کہ تیری محبوب مَر گئی ہے اور تُو زندہ ہے۔ کون کہتا ہے کہ تُو عاشقِ صادق ہے۔ یہ جنازہ اور ایسی باتیں طے شدہ اور فرضی تھیں۔ والہؔ نے اسی قصّے کو نظم کیا ہے جسے اس دور کی زبان میں‌ کچھ اس طرح‌ باندھا گیا۔

او طالب عاشقِ صاحب وفا تھا
عشق میں روزِ اوّل سُوں فدا تھا
یہ طعنہ جب سُنا غیرت میں آیا
وہ ڈولی سُوں اپس کا مُکھ پھرایا
دنیا کا میں اتا پانی پیوں حیف
مَرے موہنی اور اس بن میں جیوں حیف
نظر آیا تمام آفاق کالا
اپس کو بے دھڑک پائیں میں ڈالا
گرا اور جیو دیا سَر نیں اُچایا
فنا مشتاق یک غوطہ نہ کھایا

کہتے ہیں موہنی بھی طالب کا اپنے لیے یہ جنون دیکھ کر اسے دل دے بیٹھی تھی کہ ایسا سچا پیار کرنے والا کون ہوتا ہے۔ اسے جب اپنے فرضی جنازے کے بعد طالب کے کنوئیں میں کود کر مر جانے کی خبر ہوئی تو وہ بھی اسی کنوئیں میں کود گئی اور اس کی موت واقع ہو گئی۔ روایت ہے کہ انھیں ایک ہی قبر میں دفن کیا گیا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں