The news is by your side.

Advertisement

حکومتی اتحادی ہدف بن گئے، وزیر اعظم کو خود متحرک ہونا پڑ گیا

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کی سیاسی فضا میں حرارت عروج پر پہنچ گئی ہے، حکومت اور اپوزیشن دونوں کی جانب سے حکومتی اتحادی ہدف بن گئے ہیں، اور وزیر اعظم کو خود متحرک ہونا پڑ گیا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق آج پیر کو وزیر اعظم عمران خان نے پارلیمنٹ لاجز جا کر گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے ایک وفد سے ملاقات کی، جس میں جی ڈی اے رہنماؤں نے حکومتی پالیسیوں پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔

وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات میں وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، رکن قومی اسمبلی غوث بخش مہر اور ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے علاوہ شاہ محمود قریشی، اسد عمر اور شہباز گل موجود تھے۔

تمام رہنماؤں نے وزیر اعظم عمران خان کی قیادت اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے جاری حکومتی پالیسیوں پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔

اتحادیوں سے متعلق وزیر اعظم کا اہم قدم

دوسری طرف اپوزیشن جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے حکومتی اتحادیوں کو وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں ساتھ دینے کے لیے آمادہ کرنے کی کوششیں جاری ہیں، اس سلسلے میں آج متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کا وفد اسلام آباد میں زرداری ہاؤس پہنچا۔

اس اہم ملاقات میں ایم کیو ایم کے اپوزیشن سے کیے گئے تمام مطالبات پر پیش رفت سامنے آئی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری نے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے انھیں جینئین قرار دیا اور کہا کہ ہم ان مطالبات کو مانتے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ پی پی شریک چیئرمین نے ایم کیو ایم کے شہری سندھ میں اسٹیک اور مینڈیٹ کو تسلیم کیا، اور یقین دہائی کرائی کہ شہری سندھ کی ترقی کے لیے جو مدد اور تعاون سندھ حکومت کی جانب سے درکار ہوا، وہ دیا جائے گا، اور اس سلسلے میں مکمل سپورٹ کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق سابق صدر پاکستان نے عدم اعتماد پر ایم کیو ایم سے حمایت مانگی، تاہم ایم کیو ایم نے فی الحال کوئی جواب نہیں دیا، ایم کیو ایم ذرائع کا کہنا ہے کہ رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں اور کارکنان سے مشاورت کے بعد عدم اعتماد کے حوالے سے کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔

ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد کی صورت حال کے لیے بھی اپوزیشن نے روڈ میپ تیار کر لیا ہے، اور یہ روڈ میپ حکومتی اتحادیوں کی مشاورت سے طے کیا گیا ہے، ذرائع کے مطابق تحریک کی کامیابی پر نئے الیکشن سے پہلے نیب پہلا ٹارگٹ ہوگا، الیکٹورل اور معاشی اصلاحات کے بعد الیکشن کرائے جائیں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں