site
stats
پاکستان

مقدمہ نہ ہونے کے سبب لال مسجد کے خطیب کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا: نثار

اسلام آباد: وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان نے کہاہے کہ لال مسجد کے خطیب مولاناعبدالعزیز کو گرفتار نہیں کیاجاسکتا۔

وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان نے جمعے کوقومی اسمبلی میں میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لال مسجد کے خطیب کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں ہے لہذا ان کی گرفتاری ممکن نہیں، انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ ان پردرج مقدمات ختم ہونے کے بعد انہیں لال مسجد میں واپس کیوں لایا گیا؟۔

چوہدری نثارنے یہ بھی بتایا کہ فاٹا میں نئی فورس تشکیل دینے کے لئے 48 ارب روپے مختص کردئیے گئےہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نئی فورس آپریشن ضرب عضب کے بعد فوج کی جگہ قبائلی علاقے میں تعینات کی جائے گی جبکہ رینجرز بھی موجود رہے گی۔

وزیرداخلہ چوہدری نثار نے قومی اسمبلی میں خطاب میں یہ بھی کہا کہ صرف ملٹری آپریشن سے حالات بہترنہیں ہوسکتے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ فاٹا میں قیامِ امن کے لئے تمام اسٹیک ہولڈرزسے مشاورت کی جائے گی۔

چوہدری نثار نے اسمبلی میں یہ بھی کہا کہ وہ آج بھی اس بات پرقائم ہیں کہ امریکہ نے امن عمل سبوتاژکیا۔

مولاناعبدالعزیز کے خلاف مقدمہ درج ہے؟


چوہدری نثارعلی خان کے بیان کے ردعمل میں ٹویٹر پر کئی افراد انہیں تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں اورالزام لگارہے ہیں کہ حکومت مولانا عبدالعزیز کو تحفظ فراہم کررہی ہے۔

ایک ٹویٹرصارف نے مولانا عبدالعزیز کے خلاف دسمبر 2014 میں درج ہونے والے مقدمے کی ایف آئی آرکی نقول بھی شیئرکی ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top