The news is by your side.

Advertisement

حکومت کا نیب کو لگام ڈالنے کا فیصلہ، نئے ترمیمی آرڈیننس کا مسودہ تیار

اسلام آباد : حکومت کی جانب سے نیب قانون میں تبدیلی کے لئے نئے ترمیمی آرڈیننس کا مسودہ تیار کرلیا گیا، جس کے تحت چیئرمین نیب سے ملزمان کی گرفتاری کا اختیار واپس لیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق حکومت نے نیب کو لگام ڈالنے کا فیصلہ کرلیا اور اس سلسلے میں نئے ترمیمی آرڈیننس 2020 کا مسودہ تیار کرلیا گیا ہے اور وزیراعظم کو بھجوا دیا ہے۔

مسودہ کے تحت چیئرمین نیب سے ملزمان کی گرفتاری کا اختیار واپس لیاجائےگا اور 90 دن حراست میں رکھنے اور کسی مقام کو سب جیل قرار دینے کا اختیار بھی ختم کردیا جائے گا۔

مسودے میں کہا گیا کہ ریفرنس دائرہونے کے بعد احتساب عدالت ملزم کے وارنٹ جاری اور حاضری یقینی بنانےکیلئےملزم سےضمانتی مچلکےبھی طلب کرسکے گی جبکہ مچلکوں کےباوجود عدم حاضری پر عدالت وارنٹ گرفتاری جاری کر سکے گی۔

نئے ترمیمی آرڈیننس کے مطابق 50کروڑ سے کم کی کرپشن پر نیب کارروائی نہیں کر سکے گا، اس سے پہلے نیب دس کروڑ یا اس سے زائد کی کرپشن پر کارروائی کر سکتا تھا۔

مسودے میں کہا گیا کہ نیب پانچ سال سے زائد پرانے کھاتے نہیں کھول سکے گا، ٹیکس اور لیوی کے ایشوز بھی نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں ہوں گے جبکہ عوامی عہدیداروں کےخلاف کارروائی کےلیےمالی فوائد کےشواہدلازمی ہوں گے۔

نئے ترمیمی آرڈیننس کے مسودے کے مطابق اخراجات کیلئے کسی کی مدد لینے والا زیرکفالت تصور ہوگا، نیب کسی ملزم کےخلاف ضمنی ریفرنس دائر نہیں کر سکے گا اور کرپشن کے ملزمان دوران تفتیش وکیل کو ساتھ لیجا سکیں گے جبکہ نیب کسی گمنام شکایت پر کارروائی نہیں کر سکے گا۔

مسودے میں کہا گیا منتخب نمائندوں کا ٹرائل اسی صوبے میں ہوگا جہاں سے وہ الیکشن جیتے جبکہ کرپٹ افراد سزا کے بعد بھی پلی بارگین کر سکیں گے اور رضاکارانہ رقم واپسی پر 5سال کی نااہلی کاسامنا کرناہوگا۔

نئے ترمیمی آرڈیننس کے مطابق ریفرنس دائرہونےتک نیب حکام کسی ملزم کیخلاف بیان جاری نہیں کرسکتے، میڈیا پربیان دینے والے نیب افسر کوایک سال تک قید اورایک لاکھ جرمانہ ہوگا، آرڈیننس کا اطلاق تمام زیرالتوامقدمات پر بھی ہوگا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں