اسلام آباد: زرعی انکم ٹیکس پر آئی ایم ایف کومنانے کیلئے حکومتی کوششیں جاری ہے اور واجبات کے اہداف پر متبادل پلان تیار کیا جارہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق حکومت نے زرعی انکم ٹیکس کی وصولی کے معاملے پر آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کے لیے صوبوں کے ساتھ مشاورت اور متبادل پلان کی تیاری شروع کردی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ صوبوں سے زرعی انکم ٹیکس کے واجبات اور ٹیکس گوشواروں کے مطلوبہ اہداف حاصل کرنے کے لیے 30 ستمبر تک انتظار کیا جائے گا۔
ذرائع نے کہا کہ اگر صوبے مقررہ مدت تک زرعی انکم ٹیکس کی وصولی اور گوشواروں کے حوالے سے مطلوبہ اہداف حاصل نہ کرسکے تو متبادل منصوبہ تیار کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ اکتوبر میں صوبوں کے ساتھ زرعی انکم ٹیکس کے لیے فکس ٹیکس اسکیم متعارف کرانے پر مشاورت کا امکان ہے۔
مجوزہ اسکیم کے تحت زرعی شعبے میں فی ایکڑ 5 ہزار روپے تک انکم ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پر غور کیا جاسکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق تاجر طبقے کے لیے فکس ٹیکس اسکیم کی طرز پر کاشتکاروں اور زمینداروں کے لیے بھی اکتوبر میں ایک مقررہ ٹیکس نظام متعارف کرانے کی تجویز زیر غور ہے۔
دوسری جانب آئی ایم ایف کی دستاویز کے مطابق پاکستان میں زرعی انکم ٹیکس کی وصولی کے معاملے میں مسلسل تاخیر ہورہی ہے، جبکہ زرعی شعبہ ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے کے باوجود ٹیکس وصولی میں انتہائی کم حصہ ڈال رہا ہے۔
آئی ایم ایف دستاویز کے مطابق ملکی معیشت میں زرعی شعبے کا حصہ 24.5 فیصد ہے، تاہم مجموعی ٹیکس وصولی میں اس شعبے کا حصہ صرف 0.3 فیصد ہے۔
حکومت کی جانب سے زرعی انکم ٹیکس کی وصولی بہتر بنانے کے لیے صوبوں کے ساتھ مشاورت اور ممکنہ فکس ٹیکس اسکیم پر غور کو اسی سلسلے کی اہم کڑی قرار دیا جارہا ہے۔


