The news is by your side.

Advertisement

پی ٹی آئی آزادی مارچ روکنے کیلیے حکومت کے 2 پلان تیار

پاکستان تحریک انصاف کے حقیقی آزادی مارچ کو روکنے کے لیے شہباز حکومت نے 2 پلان تیار کرلیے ہیں۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے 25 مئی کو ہونے والے حقیقی آزادی مارچ کو روکنے کے لیے شہباز حکومت نے 2 پلان تیار کرلیے ہیں۔

حکومتی پلان کے حوالے سے ذرائع نے اے آر وائی نیوز کو بتایا کہ حکومت کے آزادی مارچ کے پلان اے کے تحت شرکا کو سرینگر ہائی وے سے آگے نہیں جانے دیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق پلان اے کے تحت ریڈ زون کو مکمل سیل ہوگا اور صرف ایک راستہ ہی کھلا ہوگا، زیرو پوائنٹ، فیض آباد، بارہ کہو، روات، گولڑہ پر کنٹینرز لگائے جائیں گے اور مارچ کے شرکا کو زیرو پوائنٹ سے آگے نہیں جانے دیا جائے گا۔

ذرائع نے بتایا کہ اگر حکومت نے مارچ کے شرکا کو روکنے کا فیصلہ کیا تو پلان بی پرعمل ہوگا جس کے تحت مارچ کے شرکا کو اٹک کے قریب روکا جائے گا اور موٹر وے سمیت جی ٹی روڈ کو بھی بند کردیا جائے گا اور سڑکوں کو بند کرنے کیلئے300 سے زائد کنٹینرز لگائے جائیں گے

ذرائع نے بتایا کہ حکومتی پلان بی میں پی ٹی آئی قیادت کی گرفتاریاں بھی ہوں گی اور اس حوالے سے پولیس نے فہرستیں تیار کرنے کے ساتھ چھاپہ مار ٹیمیں بھی تیار کرلی ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں‘کہا جارہا ہے پی ٹی آئی کے 700 رہنماؤں، کارکنوں کو گرفتار کیا جائیگا’

اس سے قبل خبر آئی تھی کہ پی ٹی آئی کے مظاہرین سے نمٹنے کے لیے حکومت نے ملک بھر سے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسلام آباد انتظامیہ نے 2 ہزار سے زائد فرنٹیئر کانسٹیبلری اہلکار طلب کیے ہیں اس کے علاوہ 8 ہزار پنجاب کانسٹیبلری، 2 ہزار اینٹی رائٹ اہلکار، سندھ سے 2 ہزارپولیس اہلکارطلب کیے گئے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ دھرنے کے شرکا سے نمٹنے کےلیے 4 ہزار رینجرز اہلکاروں سمیت 500 خواتین اہلکاروں کو بھی طلب کیا گیا ہے جب کہ مختلف صوبوں سے 100 قیدی وینز بھی منگوائی گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق تمام صوبوں کی نفری مکمل کمانڈ سسٹم سمیت طلب کی گئی ہے اور نفری کے ساتھ مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کے 15 ہزار شیل بھی منگوائے گئے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں