وفاقی وزارتوں اور محکموں میں ای آفس کے نفاذ سے اخراجات میں کمی آنے لگی۔
وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ نے دعوٰی کیا ہے کہ وفاقی حکومت نے ایک سال میں 9.5 ارب روپے تک کی بچت کر لی، اسٹیشنری، کاغذ اور دیگر سامان میں نمایاں کمی سے اربوں کی بچت ممکن ہوئی جب کہ کاغذی فائلوں کا خاتمہ، شفافیت اور، کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی۔
شزہ فاطمہ نے بتایا کہ وزارتوں اور ڈویژنز میں مکمل ای آفس اپنائے جانے سے مالی نظم و نسق بہتر ہوا، وفاقی سطح پر 100 فیصد ای آفس سسٹم نافذ، تمام کام مکمل طور پر پیپرلیس کر دیئے گئے۔
وزیر آئی ٹی کے مطابق وزیراعظم اپنے ڈیش بورڈ سے ہر سرکاری فائل کی پیشرفت براہِ راست مانیٹر کر سکتے ہیں تاخیر کا شکار فائلیں خودکار طریقے سے سرخ نشان میں ظاہر کرتی ہیں، سوا چار سو میں سے 300 محکمے، ریگولیٹری باڈیز ای آفس پر منتقل کردیئے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کیساتھ ایم او یو کے بعد عدالت عظمی ای آفس پر منتقل ہوگئی ہے، اے جی پی آر کے مطابق ای آفس کے پہلے سال میں 9.5 ارب روپے کی بچت ریکارڈ ہوئی، ای آفس کے نفاذ سے 60 فیصد نچلے کے عملے کی اسامیاں غیر ضروری ہوگئی ہیں۔
شزہ فاطمہ نے بتایا کہ ڈیجیٹل ورک فلو سے اسٹینو گرافر اور ڈسپیچ عملے کی ضرورت کم ہوگئی ہے حکومت متاثرہ ملازمین کیلئے ری اسکلنگ اور اپ اسکیلنگ پروگرام بنا رہی ہے، اے آئی اور ڈیجیٹل ٹولز کی ٹریننگ کے ذریعے عملے کو دوبارہ قابلِ روزگار بنایا جائے گا۔
علیم ملک پاور ڈویژن، آبی وسائل، وزارت تجارت اور کاروبار سے متعلق دیگر امور کے لیے اے آر وائی نیوز کے نمائندے ہیں


